LIVE
Loading Breaking News...

مائیکروسافٹ اور اسپیس ایکس کا بڑا معاہدہ: اے آئی انفراسٹرکچر میں نمایاں پیش رفت

News Image
مائیکروسافٹ نے مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے اسپیس ایکس کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ کر لیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت 2027 تک 3 گیگاواٹ سے زائد بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف کمپنی مائیکروسافٹ نے مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور ڈیٹا سینٹرز کی طلب کو پورا کرنے کے لیے ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مائیکروسافٹ نے ایلون مسک کی خلائی ٹیکنالوجی کمپنی 'اسپیس ایکس' کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت 2027 تک 3 گیگاواٹ سے زائد بجلی فراہم کی جائے گی۔ یہ معاہدہ مائیکروسافٹ کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو چلانے کے لیے ضروری انفراسٹرکچر کو مستحکم کرنا ہے۔ مائیکروسافٹ اب تک رواں برس میں 10 گیگاواٹ کے ڈیٹا سینٹر معاہدے سائن کر چکا ہے جن کی کل مالیت 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تمام تر صلاحیتیں 2027 کے آخر اور 2028 تک فعال ہوں گی، جس کے باعث کمپنی کو قلیل مدتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مزید وسائل کی تلاش ہے۔ سیمیاینالائسز (SemiAnalysis) کی رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی (OpenAI) کے ٹوکنومکس اور اے آئی کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی ضرورت نے بڑی ٹیک کمپنیوں کو توانائی کے نئے اور بڑے ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے لیے درکار بھاری توانائی کے حصول کے لیے مائیکروسافٹ اب اسپیس ایکس کی ٹیکنالوجیز اور نیٹ ورکنگ سے استفادہ کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح ٹیک کمپنیاں اپنی اے آئی لیڈرشپ کو برقرار رکھنے کے لیے روایتی بجلی کے گرڈز سے ہٹ کر جدید اور مستحکم توانائی کے ذرائع کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ 3 گیگاواٹ کا معاہدہ صرف ایک شروعات ہے، اور آنے والے وقتوں میں ڈیٹا سینٹرز کے لیے بجلی کی فراہمی ایک بڑی کاروباری جنگ کا میدان ثابت ہوگی۔ مائیکروسافٹ اپنے کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، اور یہ نئی شراکت داری اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ کمپنی کے مستقبل کے ڈیٹا سینٹرز بغیر کسی رکاوٹ کے چلتے رہیں۔