LIVE
Loading Breaking News...

بھارت برطانیہ تجارتی معاہدہ اور آٹو پارٹس انڈسٹری پر اثرات

News Image
بھارت اور برطانیہ کے درمیان جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدے (سیٹا) کے نفاذ سے دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ہندوستانی آٹو پارٹس کی برآمدات کو نمایاں فروغ ملے گا اور دوطرفہ سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔
نئی دہلی: پندرہ جولائی دو ہزار چھبیس کو بھارت اور برطانیہ کے درمیان طے پانے والے جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدے (سیٹا) کے باضابطہ نفاذ کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے مابین تجارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ اس تاریخی معاہدے کے نفاذ کے فوراً بعد حکومت ہند نے اس نئے فریم ورک کے تحت برآمدی کھیپ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس سے ہندوستانی برآمد کنندگان میں زبردست جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ معاہدہ دونوں دوست ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنے اور باہمی تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جانے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔اس معاہدے کے نتیجے میں بالخصوص آٹو پارٹس اور مینوفیکچرنگ کے شعبے کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ برطانیہ کی مارکیٹ میں ہندوستانی آٹو پارٹس کی رسائی آسان ہونے سے مقامی صنعت کاروں کو بین الاقوامی سطح پر اپنی مصنوعات متعارف کرانے کے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔ حکومتی حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف ملک میں برآمدات کا حجم بڑھے گا بلکہ صنعتی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس پیش رفت کو دونوں معیشتوں کے لیے ایک پائیدار اور طویل المدتی شراکت داری کی طرف اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔تجارتی حلقوں اور صنعت کاروں نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے برآمدی عمل میں مزید تیزی آئے گی اور درآمدی و برآمدی ضابطے آسان ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے برآمد کنندگان کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ اس معاہدے سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں دوطرفہ تجارت کے اعداد و شمار میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئے گی، جس سے مجموعی ملکی معیشت کو بھی زبردست استحکام ملے گا۔