Business
فون پے اور ریزر پے: بڑے مرچنٹس پر یو پی آئی فیس کی تجویز
ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑے اداروں نے یو پی آئی کے پائیدار کاروباری ماڈل کے لیے بڑے مرچنٹس پر چارجز لگانے کی تجویز دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ادائیگیوں کے نظام کو مالی طور پر مستحکم بنانا اور ٹیکنالوجی میں مزید سرمایہ کاری کرنا ہے۔
بھارت کی معروف ڈیجیٹل ادائیگیوں کی کمپنیوں فون پے (PhonePe) اور ریزر پے (Razorpay) نے بڑے تاجروں پر مخصوص یو پی آئی (UPI) چارجز عائد کرنے کی حمایت کر دی ہے۔ اس حوالے سے فون پے کے شریک بانی اور سی ای او سمیر نگم اور ریزر پے کے شریک بانی ہرشل ماتھر کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ماحولیاتی نظام کو طویل مدت تک برقرار رکھنے کے لیے ایک پائیدار کاروباری ماڈل کی اشد ضرورت ہے۔ یہ موقف پیمنٹس کونسل آف انڈیا (PCI) کے اس نظریے سے مطابقت رکھتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ادائیگیوں کے نظام کو بہتر بنانے اور نئی ٹیکنالوجیز متعارف کرانے کے لیے مالی وسائل کا حصول ضروری ہے۔
فنٹیک کمپنیوں کے سربراہان کا استدلال ہے کہ یو پی آئی کے ذریعے ہونے والی چھوٹی اور ذاتی ٹرانزیکشنز تو مفت رہنی چاہئیں، لیکن بڑے کاروباری اداروں اور بڑے پیمانے پر لین دین کرنے والے مرچنٹس کو سسٹم کے اخراجات میں حصہ ڈالنا چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے انفراسٹرکچر، سائبر سیکیورٹی کے انتظامات، اور صارفین کو جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے، جسے صرف مفت خدمات کے ذریعے برقرار رکھنا ممکن نہیں ہے۔
اس تجویز پر صنعت کے ماہرین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں کمپنیاں اسے مارکیٹ کی ضرورت قرار دے رہی ہیں، وہیں تاجروں کا ایک طبقہ خدشات کا اظہار کر رہا ہے کہ اس سے کاروباری لاگت میں اضافہ ہوگا۔ تاہم، پیمنٹس کونسل آف انڈیا کا موقف ہے کہ اگر ڈیجیٹل ادائیگیوں کو عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے تو سسٹم کو خود کفیل بنانا ہوگا۔ اگر یہ تجویز نافذ ہوتی ہے، تو یہ بھارت کے فن ٹیک سیکٹر میں ایک بڑی تبدیلی ہو گی، جو اب تک مفت سروسز کے ماڈل پر چل رہا تھا۔
مستقبل میں اس حوالے سے ریگولیٹری ادارے اور حکومتی پالیسی ساز کیا فیصلہ کرتے ہیں، یہ دیکھنا باقی ہے۔ فی الحال، فون پے اور ریزر پے جیسے بڑے پلیئرز اس بحث کو عوامی اور کارپوریٹ سطح پر لے آئے ہیں تاکہ ادائیگیوں کے شعبے میں مالی استحکام اور جدت طرازی کے درمیان توازن قائم کیا جا سکے۔