World
بائبل کے قدیم نسخوں میں خلائی مخلوق کا ذکر، ماہر کا حیران کن انکشاف
بائبل کے ایک سابق مترجم مورو بگلیانو نے دعویٰ کیا ہے کہ قدیم عبرانی صحیفوں میں ایک خدا کے بجائے خلائی مخلوق کے گروہوں کا ذکر موجود ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ویٹیکن اس تحقیق پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کے اثرات سے واقف ہے۔
دنیا بھر میں بائبل اور مذہبی تاریخ پر تحقیق کرنے والے ماہرین کے درمیان ایک نیا تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب بائبل کے ایک سابق مترجم مورو بگلیانو نے ایک حیران کن دعویٰ کیا۔ بگلیانو کا کہنا ہے کہ قدیم عبرانی زبان میں لکھی گئی بائبل کے اصل متن کا گہرائی سے مطالعہ کرنے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان صحیفوں میں کسی ایک خدائے واحد کا نہیں بلکہ خلائی مخلوق کے گروہوں کا ذکر موجود ہے۔ یہ تحقیق مذہبی حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے کیونکہ اس سے صدیوں پرانے عقائد کے بنیادی ڈھانچے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بگلیانو کے مطابق، ان کے ترجمے اور تحقیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قدیم متن میں جن طاقتور ہستیوں کا ذکر ہے، وہ انسانی سمجھ سے بالاتر ٹیکنالوجی اور وسائل کی حامل تھیں۔
اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ بگلیانو کا دعویٰ ہے کہ ویٹیکن سٹی کے اعلیٰ حکام ان کی تحقیق سے بخوبی واقف ہیں اور اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق، ویٹیکن نے قدیم صحیفوں کے ترجمے اور ان کی تشریح کے حوالے سے کئی اہم حقائق کو منظر عام پر نہیں آنے دیا، کیونکہ ان کے انکشاف سے چرچ کے روایتی بیانیے کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ بگلیانو نے نشاندہی کی کہ بائبل میں بیان کردہ واقعات، جنہیں معجزات کا نام دیا جاتا ہے، درحقیقت وہ تکنیکی مداخلتیں ہو سکتی ہیں جو زمین سے باہر کی مخلوق نے کی تھیں۔ یہ دعویٰ نہ صرف ماہرینِ الہیات بلکہ سائنسدانوں کے لیے بھی تجسس کا باعث بنا ہوا ہے کہ آیا قدیم انسانی تاریخ میں غیر ارضی مخلوق کا براہِ راست عمل دخل شامل رہا ہے۔
اگرچہ مورو بگلیانو کے اس نظریے کو مرکزی دھارے کے مذہبی حلقوں اور قدامت پسند اسکالرز کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے، تاہم بگلیانو اپنی تحقیق پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی کے عقائد کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتے بلکہ صرف وہی کچھ بیان کر رہے ہیں جو قدیم عبرانی زبان کے الفاظ اور ان کے سیاق و سباق سے ثابت ہوتا ہے۔ بگلیانو نے اپنی کتابوں اور لیکچرز کے ذریعے اس بحث کو ایک نئی جہت دی ہے، جہاں اب لوگ مذہب اور خلائی مخلوق کے تعلق کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ویٹیکن کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، مگر یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ کیا چرچ واقعی ان قدیم رازوں کو محفوظ رکھے ہوئے ہے جو انسانیت کی کائنات میں حیثیت کو بدل سکتے ہیں۔