LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں پانچ ارب ڈالر کی پٹرولیم سرمایہ کاری اور آف شور ڈرلنگ

News Image
وفاقی وزیر پٹرولیم نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کو ریفائنریز کی تبدیلی اور اپ گریڈیشن کے لیے بہت جلد پانچ ارب ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری ملنے کی امید ہے۔ اس کے علاوہ ترک پیٹرولیم بھی بہت جلد پاکستانی سمندری حدود میں آف شور ڈرلنگ کے عمل کا باقاعدہ آغاز کرنے جا رہی ہے۔
اسلام آباد: وفاقی وزارت پٹرولیم کے حکام کے مطابق پاکستان کے توانائی اور پٹرولیم کے شعبے میں بہت جلد پانچ ارب ڈالر کی بڑی بیرونی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اس اہم سرمایہ کاری کا بنیادی مقصد ملک میں موجودہ ریفائنریز کی جدید خطوط پر تبدیلی اور ان کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانا ہے تاکہ ملکی ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کیا جا سکے۔ حکومت اس حوالے سے تمام متعلقہ اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور ستمبر سے اس سمت میں عملی پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔دوسری جانب توانائی کے شعبے میں ایک اور بڑی پیش رفت کے تحت ترکیہ کی معروف کمپنی 'ترک پیٹرولیم' بہت جلد پاکستانی سمندری حدود میں آف شور ڈرلنگ (سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش) کے آپریشنز کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔ وزیر پٹرولیم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان اس سلسلے میں تمام تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور امید ہے کہ اس سے ملک میں ہائیڈرو کاربن کے نئے ذخائر دریافت کرنے میں مدد ملے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف پاکستان کے توانائی کے شعبے کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ ملک کو معاشی بحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ موجودہ حکومت ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے ریفائنری پالیسی سمیت تمام پالیسیوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد جاری ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ ان منصوبوں سے نہ صرف معیشت کا پہیہ تیزی سے گھومے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔