LIVE
Loading Breaking News...

یمنی حوثیوں کا سعودی ریفائنری پر بڑا حملہ، جانی نقصان کی تصدیق

News Image
یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی ایک اہم آئل ریفائنری کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جس کے نتیجے میں گیارہ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یمن میں سرگرم حوثی باغیوں نے ایک بار پھر سعودی عرب کی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مملکت کی ایک بڑی آئل ریفائنری پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 11 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر کسی بڑے جانی نقصان کی تفصیلات تو جاری نہیں کی گئیں، تاہم ریفائنری پر حملے سے خطے میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے عالمی منڈیوں میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب یمن کے اندر حکومتی فورسز اور باغیوں کے مابین محاذ آرائی میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے درجنوں فوجیوں کے ہلاک ہونے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حوثی عسکریت پسند اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا حوثیوں کی ایک نئی حکمت عملی ہو سکتی ہے جس کا مقصد سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں پر سیاسی اور اقتصادی دباؤ ڈالنا ہے۔ سعودی عرب، جو پہلے ہی یمن میں جاری خانہ جنگی کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے، نے اپنی سرحدوں اور تنصیبات کی حفاظت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔ سعودی حکام نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب یمن کی سرکاری فوج کا کہنا ہے کہ وہ ملک بھر میں اپنے دفاعی محاذوں کو مضبوط بنا رہی ہے تاکہ حوثیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کا موثر جواب دیا جا سکے۔ سکیورٹی اجلاسوں میں حکومتی عہدیداروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یمن کی خودمختاری اور استحکام کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔ عالمی طاقتوں اور خلیجی ممالک نے اس حملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کر کے مذاکرات کی میز پر آئیں تاکہ خطے میں جاری اس دیرینہ تنازعے کا پرامن حل نکالا جا سکے۔