LIVE
Loading Breaking News...

اسپین میں سیاحوں کے خلاف مظاہرے: میلورکا کے عوام سڑکوں پر

News Image
اسپین کے مشہور سیاحتی علاقے میلورکا کے قصبے سولر میں سینکڑوں افراد نے بڑے پیمانے پر سیاحت کے خلاف مارچ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ بے تحاشا سیاحت مقامی رہن سہن اور وسائل پر بوجھ بن رہی ہے۔
اسپین کے مشہور سیاحتی جزیرے میلورکا کے قصبے سولر میں ہفتے کے روز سینکڑوں افراد نے بڑے پیمانے پر سیاحت یعنی 'ماس ٹورازم' کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس مارچ میں شریک مقامی رہائشیوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاحوں کی بے تحاشا آمد نے ان کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں رہائشی مسائل اور وسائل کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکام سیاحت کے موجودہ ماڈل پر نظر ثانی کریں تاکہ مقامی لوگوں کے حقوق اور سکون کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ سیاحت کی صنعت سے ہونے والی آمدنی کا فائدہ تو بڑے سرمایہ کاروں کو پہنچ رہا ہے، لیکن اس کے منفی اثرات جیسے کہ کرایوں میں ہوشربا اضافہ، بنیادی سہولیات پر دباؤ، اور ماحولیاتی مسائل کا سامنا صرف مقامی آبادی کو کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے اسپین کے مختلف سیاحتی علاقوں میں اس طرح کی تحریکوں نے زور پکڑا ہے جہاں شہری مطالبہ کر رہے ہیں کہ 'زیادہ سیاحت، کم معیارِ زندگی' کے رجحان کو ختم کیا جائے۔ یہ احتجاجی مارچ پرامن رہا تاہم اس نے اس بحث کو ایک بار پھر ہوا دے دی ہے کہ آیا بڑے پیمانے پر سیاحت کسی ملک کی معیشت کے لیے فائدہ مند ہے یا یہ مقامی کلچر اور رہن سہن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ سولر کی انتظامیہ اور مقامی حکومت کی جانب سے ابھی تک اس احتجاج پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن سماجی تنظیمیں اس بات پر بضد ہیں کہ جب تک سیاحوں کی آمد کے حوالے سے ضوابط سخت نہیں کیے جاتے، تب تک یہ احتجاج جاری رہیں گے۔ اسپین میں سیاحت معیشت کا ایک بڑا ستون ہے، لیکن میلورکا جیسے علاقوں میں مقامی آبادی کا بڑھتا ہوا غصہ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے مقامی لوگوں کے خدشات کو دور نہ کیا تو آنے والے وقتوں میں یہ مظاہرے مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، جس کا اثر ملک کی سیاحتی ساکھ پر بھی پڑ سکتا ہے۔