LIVE
Loading Breaking News...

زرعی شعبے میں خواتین کا بڑھتا کردار: ایک نئی تبدیلی

News Image
للیتا روپنارائن سنگھ جیسی نوجوان خواتین زراعت کے شعبے میں اپنی منفرد پہچان بنا رہی ہیں اور روایتی پیشوں سے ہٹ کر اس میدان میں قدم رکھ رہی ہیں۔ ان کی جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ زراعت اب صرف مردوں کا کام نہیں بلکہ جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کا مستقبل ہے۔
جب للیتا روپنارائن سنگھ نے زراعت کے شعبے میں ڈگری حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن تھا۔ یونیورسٹی آف کوئینز لینڈ کی یہ طالبہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتی ہے جہاں ڈاکٹروں، وکیلوں اور اکاؤنٹنٹس کی بہتات ہے، اور ان کے خاندان میں کسی کا بھی زرعی پس منظر نہیں تھا۔ تاہم، للیتا کا یہ فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ آج کی نوجوان نسل روایتی پیشوں سے ہٹ کر ایسے شعبوں کا انتخاب کر رہی ہے جو دراصل مستقبل کی معیشت اور خوراک کی حفاظت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ زراعت کا شعبہ طویل عرصے سے ایک مردانہ غلبے والا شعبہ سمجھا جاتا رہا ہے، جہاں زیادہ تر کاموں کو جسمانی مشقت سے جوڑا جاتا ہے۔ لیکن اب ٹیکنالوجی اور سائنسی تحقیق نے اس تصور کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ للیتا جیسی نوجوان خواتین نہ صرف کھیتوں میں کام کر رہی ہیں بلکہ وہ جدید زرعی ٹیکنالوجیز، ڈیٹا اینالٹکس اور پائیدار کاشتکاری کے طریقوں کو فروغ دے رہی ہیں۔ وہ یہ ثابت کر رہی ہیں کہ زراعت کا مطلب اب صرف ہل چلانا نہیں، بلکہ جینیاتی بہتری اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے سائنسی سوچ کو استعمال کرنا ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے تعلیم اور شعور کا ایک بڑا کردار ہے۔ جب تعلیمی ادارے زراعت کو ایک جدید سائنسی مضمون کے طور پر پیش کرتے ہیں، تو نوجوانوں کی دلچسپی اس کی جانب بڑھتی ہے۔ للیتا کا کہنا ہے کہ ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج معاشرتی دقیانوسی تصورات کو توڑنا تھا، جہاں زراعت کو کم تر سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنے تعلیمی سفر کے دوران یہ ثابت کیا کہ زراعت میں کیریئر بنانا نہ صرف باوقار ہے بلکہ یہ انسانی بقا کے لیے انتہائی ناگزیر بھی ہے۔ ان کی کامیابی کی کہانی ان تمام نوجوان خواتین کے لیے ایک مثال ہے جو اپنے شوق اور عزم کے ساتھ سماجی رکاوٹوں کو عبور کرنا چاہتی ہیں۔ مستقبل میں، زراعت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے خواتین کی شرکت کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں خوراک کا بحران ایک حقیقت ہے، اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمیں نئی اور تخلیقی سوچ کی ضرورت ہے۔ للیتا روپنارائن سنگھ جیسی خواتین جو اس شعبے میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں، دراصل ایک خاموش انقلاب کا حصہ ہیں۔ ان کا یہ اقدام زرعی شعبے میں صنفی امتیاز کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال چھوڑے گا۔