LIVE
Loading Breaking News...

امریکی بحریہ کی طاقت میں اضافہ: جدید خودکار کشتیوں کا منصوبہ

News Image
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایک ایسے جدید منصوبے کا آغاز کیا ہے جس کے تحت سمندری حدود میں ڈرونز لانچ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی خود کار کشتیاں تیار کی جائیں گی۔ اس منصوبے کے لیے 100 ملین ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری مختص کی گئی ہے جبکہ مستقبل میں اس کا حجم 200 ملین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے سمندری حدود میں اپنی عسکری صلاحیتوں کو جدید بنانے کے لیے ایک نئے اور انقلابی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد ایسی خود کار کشتیاں تیار کرنا ہے جو سمندر کے بیچ میں رہتے ہوئے ڈرونز کو لانچ کرنے اور انہیں کنٹرول کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہوں۔ اس اقدام کو جدید بحری جنگی حکمت عملیوں میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور فوری جوابی کارروائی میں مدد ملے گی۔ اس منصوبے کے تحت ڈیزائن کی جانے والی کشتیاں بغیر کسی انسانی عملے کے سمندر میں طویل عرصے تک قیام کر سکیں گی اور جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے اپنے اہداف کا تعین کریں گی۔ حکام کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی سمندری نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنائے گی اور خطرناک علاقوں میں انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر جاسوسی کی جاسکے گی۔ پینٹاگون کی جانب سے اس مقابلے میں حصہ لینے والی کمپنیوں کے لیے 100 ملین ڈالر کی انعامی رقم مختص کی گئی ہے۔ یہ رقم ان تکنیکی ماہرین اور دفاعی کمپنیوں کے لیے ہے جو ایسی خودکار کشتیاں ڈیزائن کریں گی جو نہ صرف ڈرونز کو لانچ کر سکیں بلکہ انہیں بحفاظت واپس ریکور بھی کر سکیں۔ مقابلے کے بعد کامیاب ہونے والی کمپنیوں کو 200 ملین ڈالر تک کے پروکیورمنٹ معاہدے ملنے کا امکان ہے، جو اس منصوبے کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس منصوبے کو عالمی سطح پر امریکی بحری طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ خودکار کشتیوں اور ڈرونز کا یہ امتزاج مستقبل کی جنگی حکمت عملیوں میں کلیدی حیثیت اختیار کر جائے گا۔ پینٹاگون اس بات پر زور دے رہا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی بین الاقوامی سمندری قوانین کے تحت رہتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کی جائے گی۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، امریکہ اب اپنی بحری فوج کو مزید ٹیکنالوجی پر مبنی بنانے کے لیے تیزی سے سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت اور مؤثر ردعمل دیا جا سکے۔