Politics
نیتنیاہو اور ٹرمپ کی ملاقات: ایران اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر اہم تبادلہ خیال
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتنیاہو واشنگٹن روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ نو منتخب امریکی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ اس دورے کے دوران مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال اور ایران کا معاملہ سرفہرست ایجنڈے پر ہوگا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتنیاہو اپنے اہم دورے پر واشنگٹن پہنچ چکے ہیں جہاں ان کی ملاقاتیں امریکی سیاسی شخصیات سے طے شدہ ہیں۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق، نیتنیاہو کے اس دورے کا بنیادی مقصد امریکی قیادت کے ساتھ سٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانا اور ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا ہے۔ نیتنیاہو نے واشنگٹن روانگی سے قبل اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ موجودہ علاقائی چیلنجز کے تناظر میں تہران کی سرگرمیاں ان کی اولین ترجیح ہوں گی۔ ذرائع کے مطابق نیفاتم ایئربیس سے روانہ ہونے والے اسرائیلی وزیر اعظم امریکی دارالحکومت میں اہم پالیسی سازوں سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ کے امور پر واشنگٹن اور تل ابیب کا موقف ہمیشہ سے ہم آہنگ رہا ہے۔ اس کے علاوہ، توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے کے دوران دیگر بین الاقوامی جنازوں اور تقریبات میں شرکت کا بھی موقع ملے گا جہاں مختلف ممالک کے رہنماؤں سے غیر رسمی ملاقاتیں متوقع ہیں۔ نیتنیاہو کی اس سفارتی مہم کا مقصد عالمی برادری کو ایران کے مبینہ خطرات سے آگاہ کرنا اور اسرائیل کی سلامتی کے لیے بین الاقوامی حمایت کو یقینی بنانا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے اس ماحول میں اس ملاقات کے نتائج پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں اور تمام فریقین اس کے ممکنہ اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔