World
یمن حوثی حملہ: 11 افراد ہلاک، تازہ ترین صورتحال
یمن میں حوثیوں کی جانب سے کی جانے والی شدید کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ ان حملوں میں عسکری تنصیبات اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
یمن کے مختلف علاقوں میں حوثی باغیوں کی جانب سے کیے جانے والے تازہ ترین حملوں نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سرکاری ذرائع اور مختلف بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں سے 8 کا تعلق ملکی سیکیورٹی فورسز سے بتایا گیا ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ملک میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کی جا رہی تھیں، تاہم حوثیوں کی جانب سے عسکری تنصیبات اور رہائشی علاقوں کو براہ راست ہدف بنانے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے انتہائی منظم انداز میں کیے گئے، جس سے نہ صرف جانی نقصان ہوا بلکہ املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق، حوثیوں نے خاص طور پر یمن کی بندرگاہ 'موخا' کے قریب واقع رہائشی بستیوں کو نشانہ بنایا، جہاں عام شہریوں کے گھروں پر بمباری کی گئی۔ اس کے علاوہ، سعودی عرب میں واقع آرامکو کی ریفائنری پر بھی حملے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد جازان میں موجود ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی۔ اگرچہ سعودی حکام نے بعد ازاں آگ بجھانے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن حوثیوں کی جانب سے سرحد پار کارروائیاں خطے میں تیل کی تنصیبات اور سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بڑا خطرہ بن کر ابھر رہی ہیں۔ ان کارروائیوں کو بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے شہری آبادی کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
مبصرین کا خیال ہے کہ حوثی باغی اس طرح کے حملوں کے ذریعے اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ مذاکرات کی میز پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا جا سکے۔ تاہم، اس قسم کی اشتعال انگیزیوں سے یمن میں جاری انسانی بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیمیں بارہا فریقین سے جنگ بندی اور انسانی جانوں کے تحفظ کی اپیل کرتی رہی ہیں۔ یمن میں جاری ان حملوں نے نہ صرف مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے بلکہ خطے کے دیگر ممالک میں بھی سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔ آنے والے دنوں میں ان حملوں کے ردعمل کے طور پر فوجی اور سفارتی سطح پر کیا اقدامات کیے جاتے ہیں، اس پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔