LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کا نیا فیصلہ: فلسطین اور اسرائیل تنازعہ کے حل کی امیدیں دم توڑ گئیں

News Image
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کے حالیہ فیصلوں نے خطے میں امن کی بحالی کے امکانات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ فلسطینی رہنماؤں نے اس اقدام کو امن کے سفر میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اب تیزی سے پیچھے کی جانب جا رہے ہیں۔
فلسطینی حکام اور سیاسی قیادت نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے حالیہ فیصلوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان اقدامات نے خطے میں قیامِ امن کے تمام تر امکانات کو ختم کر دیا ہے۔ فلسطینی نمائندگان کے مطابق اسرائیلی حکومت کے یکطرفہ فیصلوں کے بعد اب کسی بھی قسم کے واضح امن روڈ میپ کی گنجائش باقی نہیں رہی اور یہ پیشرفت خطے کو ایک اور بڑی کشیدگی کی جانب دھکیل رہی ہے۔ فلسطینی قیادت کا موقف ہے کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف دو ریاستی حل کے تصور کو نقصان پہنچا ہے بلکہ عام شہریوں کی زندگی بھی مزید اجیرن ہو گئی ہے۔ فلسطینی حکام نے اپنے بیان میں واضح طور پر کہا ہے کہ 'ہم اب امن کی جانب بڑھنے کے بجائے تیزی سے پیچھے کی جانب جا رہے ہیں'۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اختیار کردہ پالیسیاں بین الاقوامی قوانین اور ماضی میں کیے گئے معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جس کے نتیجے میں سفارتی کوششیں بے اثر ہو کر رہ گئی ہیں۔ فلسطینی قیادت نے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیتن یاہو کا طرزِ عمل مشرق وسطیٰ میں استحکام لانے کے بجائے مزید انتشار کو ہوا دے رہا ہے جس کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ صورتحال نے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے معطل امن مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جہاں ایک جانب اسرائیل اپنی سکیورٹی کا جواز پیش کر رہا ہے، وہیں دوسری جانب فلسطینی عوام کی محرومیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی طاقتوں کی جانب سے خاموشی اور معاملے پر ٹھوس موقف نہ اپنانے کی وجہ سے فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھ چکا ہے۔ موجودہ حالات میں یہ کہنا قبل از وقت نہیں ہوگا کہ قیامِ امن کے لیے درکار سیاسی عزم اب مکمل طور پر ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جس کی بھاری قیمت عام انسانوں کو چکانی پڑ رہی ہے۔