LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی اقدامات فلسطین کے خاتمے کی سازش ہیں، دی ایلڈرز کا بیان

News Image
سابق آئرش صدر میری رابنسن نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ فلسطین کو جسمانی، معاشی، ثقافتی اور سیاسی طور پر ختم کر رہا ہے۔ عالمی رہنماؤں کے گروپ 'دی ایلڈرز' نے فلسطینیوں کے حقوق کی سنگین پامالیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سابق آئرش صدر اور معروف عالمی رہنما میری رابنسن نے اسرائیل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صہیونی ریاست منظم طریقے سے فلسطین کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ میری رابنسن، جو اب 'دی ایلڈرز' نامی بین الاقوامی تنظیم کی سربراہ ہیں، نے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کو نہ صرف جسمانی طور پر نشانہ بنا رہا ہے بلکہ ان کی معیشت، ثقافتی ورثے اور سیاسی شناخت کو بھی منصوبہ بندی کے تحت ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان سنگین اقدامات کا نوٹس لے جو خطے میں پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ 'دی ایلڈرز' کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے جاری فوجی کارروائیاں اور قبضے کی پالیسیاں فلسطینی عوام کے لیے ایک انسانی المیہ بن چکی ہیں۔ تنظیم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جس طرح سے فلسطینی علاقوں میں آبادی کو بے گھر کیا جا رہا ہے اور بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے، اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل ایک ایسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کی خود مختاری اور وجود کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ اور مغربی کنارے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور عالمی سطح پر اسرائیل کے اقدامات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ میری رابنسن نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کی یہ پامالیاں نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اخلاقی امتحان ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیل پر لازم ہے کہ وہ اپنے رویے میں تبدیلی لائے اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کا احترام کرے۔ دی ایلڈرز گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی طاقتیں، خاص طور پر امریکہ اور یورپی یونین، اسرائیل پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں تاکہ فلسطین میں جاری تباہی کو روکا جا سکے اور ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس معاملے پر عالمی برادری کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دی ایلڈرز نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل کو اسی طرح کھلی چھوٹ دی گئی تو مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدیں دم توڑ جائیں گی۔ تنظیم کا موقف ہے کہ فلسطینیوں کو ان کا بنیادی حق، یعنی باعزت زندگی اور آزادی ملنی چاہیے، اور عالمی عدالتوں کو چاہیے کہ وہ ان جرائم کی تحقیقات کر کے انصاف کے تقاضے پورے کریں۔ یہ تنبیہ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلسطینی عوام اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ان کی آواز کو دبانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔