LIVE
Loading Breaking News...

امریکی فضائیہ کے تباہ شدہ سی-17 طیارے کی جدید ٹیکنالوجی سے کامیاب مرمت

News Image
امریکی فضائیہ کے 445 ویں ایئر لفٹ ونگ کے تباہ حال سی-17 طیارے کو ریپڈ سسٹینمنٹ آفس کی جدید ٹیکنالوجی سے بحال کر دیا گیا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ تھا جس میں پرزے دستیاب نہ ہونے کے باوجود طیارے کو دوبارہ قابل پرواز بنایا گیا۔
امریکی فضائیہ نے ایک تاریخی اور اپنی نوعیت کے منفرد اقدام میں سی-17 گلوب ماسٹر طیارے کو دوبارہ فعال بنا دیا ہے، جسے مارچ 2025 میں شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس مرمتی عمل کی خاص بات یہ ہے کہ اسے روایتی ذرائع کے بجائے ایئر فورس کے ریپڈ سسٹینمنٹ آفس (RSO) کی جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے مکمل کیا گیا۔ یہ اقدام اس وقت ناگزیر ہو گیا تھا جب مارکیٹ میں موجود کسی بھی وینڈر نے طیارے کے تباہ شدہ حصے کی فراہمی میں مدد کرنے سے معذوری ظاہر کر دی تھی۔ اس تکنیکی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے، ریپڈ سسٹینمنٹ آفس نے ایڈوانس مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل انجینئرنگ کے جدید آلات کا استعمال کیا۔ طیارے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے درکار پرزہ جات مارکیٹ میں دستیاب نہیں تھے، جس کے باعث طیارہ طویل عرصے سے گراؤنڈ تھا۔ انجینئرز کی ٹیم نے جدید ترین تھری ڈی پرنٹنگ اور کمپیوٹیشنل ماڈلنگ کی مدد سے ان حصوں کو ڈیزائن کیا اور پھر انہیں مقامی طور پر تیار کر کے طیارے میں نصب کیا، جس نے ثابت کر دیا کہ جدید ٹیکنالوجی جنگی اثاثوں کی عمر بڑھانے میں کتنا اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ فضائیہ کے حکام کے مطابق، یہ منصوبہ صرف ایک طیارے کی مرمت تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ مستقبل کے لیے ایک نئے معیار کا تعین کرتا ہے۔ روایتی سپلائی چین میں پیدا ہونے والے تعطل کے باعث اکثر اہم فوجی آلات مرمت کے منتظر رہتے ہیں، تاہم اب ریپڈ سسٹینمنٹ آفس کی ان صلاحیتوں سے امریکی فضائیہ کو یہ فائدہ ہوگا کہ وہ مشکل حالات میں بھی اپنے ہوائی جہازوں کو مختصر وقت میں دوبارہ آپریشنل حالت میں لا سکے گی۔ اس کامیاب مرمت کے بعد سی-17 نے نہ صرف اپنی پرواز مکمل کی بلکہ اسے مکمل طور پر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ دفاعی شعبے میں اس طرح کی خود انحصاری اور جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج آنے والے برسوں میں دفاعی بجٹ اور وسائل کے موثر استعمال میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ کامیابی اس بات کی عکاس ہے کہ ٹیکنالوجی کے صحیح استعمال سے ایسے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں جنہیں پہلے ناقابل حل سمجھا جاتا تھا۔