LIVE
Loading Breaking News...

پولی مارکیٹ مقدمہ: ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر شرط کا تنازع

News Image
ایک امریکی سٹہ باز نے پریڈکشن مارکیٹ پولی مارکیٹ پر ایک لاکھ ستر ہزار ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ صارف کا دعویٰ ہے کہ اس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خامنہ ای کا نام لینے کی شرط درست جیتی تھی جسے کمپنی نے مسترد کر دیا تھا۔
مشہور آن لائن پریڈکشن مارکیٹ پلیٹ فارم 'پولی مارکیٹ' کو ایک ایسی قانونی صورتحال کا سامنا ہے جس نے سٹے بازی کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک صارف نے کمپنی کے خلاف ایک لاکھ ستر ہزار ڈالر کا ہرجانہ طلب کیا ہے۔ اس صارف کا موقف ہے کہ اس نے مارچ میں ایک ایسی پیش گوئی کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 'خامنہ ای' کا نام لیں گے۔ صارف کے مطابق جب ٹرمپ نے یہ نام استعمال کیا تو وہ اپنی شرط جیت چکا تھا، تاہم کمپنی نے بعد ازاں اس شرط کو غلط قرار دیتے ہوئے اسے ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق مدعی کا کہنا ہے کہ پولی مارکیٹ نے اپنے پلیٹ فارم پر اس شرط کے نتائج کو درست طریقے سے جانچنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے۔ صارف نے دلیل دی ہے کہ اس کے پاس اس بات کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مقررہ وقت اور شرائط کے مطابق 'خامنہ ای' کا لفظ استعمال کیا تھا، لہذا کمپنی پر لازم ہے کہ وہ انعامی رقم ادا کرے۔ پولی مارکیٹ کی جانب سے اس دعویٰ کو مسترد کرنے کے بعد معاملہ اب عدالت میں پہنچ چکا ہے جہاں آن لائن شرط لگانے والے پلیٹ فارمز کی شفافیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کیس پریڈکشن مارکیٹس کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ ان پلیٹ فارمز پر شرط لگانے والے افراد اکثر حقائق کی تشریح پر اختلاف کا شکار ہوتے ہیں۔ پولی مارکیٹ جیسی ویب سائٹس کا انحصار عام طور پر ڈیٹا اور نیوز رپورٹس پر ہوتا ہے، تاہم اگر کسی مخصوص لفظ یا بیان کے حوالے سے تکنیکی یا لسانی ابہام پیدا ہو جائے تو تنازعات جنم لیتے ہیں۔ اس کیس میں اب عدالت یہ طے کرے گی کہ آیا ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بیان کمپنی کی پالیسیوں کے تحت شرط جیتنے کے لیے کافی تھا یا نہیں۔ دوسری جانب پولی مارکیٹ کے ترجمان نے ابھی تک اس عدالتی کارروائی پر کوئی تفصیلی ردعمل نہیں دیا ہے، تاہم مارکیٹ کے قواعد و ضوابط کے مطابق کسی بھی شرط کے نتائج کا تعین کرنے کا حتمی اختیار انتظامیہ کے پاس ہوتا ہے۔ اب جبکہ معاملہ عدالت میں ہے، اس بات کا امکان ہے کہ ٹیکنالوجی اور سٹہ بازی کے قانونی ضابطوں کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کی جائیں گی۔ یہ واقعہ آن لائن شرط لگانے والے دیگر صارفین کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ ڈیجیٹل پریڈکشن مارکیٹس میں سرمایہ کاری اور شرط لگانا کتنا غیر یقینی عمل ہو سکتا ہے۔