Technology
جنگلات کی آگ بجھانے کے لیے جدید ڈرون ٹیکنالوجی متعارف
اسرائیلی ٹیکنالوجی سے لیس یہ جدید ڈرون تھرمل اور آپٹیکل سینسرز کے ذریعے آگ کو پھیلنے سے پہلے ہی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اختراع یورپی ممالک میں جنگلات کی آگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کو کم کرنے میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
اسرائیلی ماہرین نے ایک ایسی جدید ڈرون ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو جنگلات میں لگنے والی آگ کو قابو سے باہر ہونے سے پہلے ہی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ خودکار ڈرون سسٹم تھرمل اور آپٹیکل سینسرز سے لیس ہے جو وسیع و عریض جنگلات کا مسلسل معائنہ کرتے ہیں اور جیسے ہی آگ کا کوئی ابتدائی نشان ظاہر ہوتا ہے، یہ فوری طور پر حکام کو خبردار کر دیتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا پہلا کامیاب تجربہ مکمل کر لیا گیا ہے، جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ مستقبل میں بڑے پیمانے پر ہونے والی ماحولیاتی تباہی کو روکا جا سکے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون سسٹم آگ کے شعلوں کے پھیلنے سے قبل ہی ان کا پتہ لگانے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگا۔
تاہم، یہ سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا یہ ٹیکنالوجی یورپ میں جاری موجودہ گرمیوں کی تباہ کن آگ کے سیزن کے لیے بروقت ثابت ہو سکے گی؟ یورپ کے کئی ممالک اس وقت شدید گرمی اور جنگلات میں لگنے والی آگ سے نبرد آزما ہیں، جس نے بڑے رقبے کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے۔ اگرچہ یہ ڈرون سسٹم ایک انقلابی اقدام ہے، لیکن بڑے پیمانے پر اس کا نفاذ اور مختلف جغرافیائی حالات میں اس کی کارکردگی کے حوالے سے مزید ٹیسٹ ضروری ہیں۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ڈرون سسٹم کو بڑے نیٹ ورک کے طور پر استعمال کیا جائے تو یہ ریسکیو ٹیموں کے لیے آگ بجھانے کے عمل میں ایک کلیدی معاون ثابت ہوگا۔
اس ڈرون سسٹم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ انسانی مداخلت کے بغیر طویل دورانیے تک نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں لگے ہوئے جدید ترین سینسرز دھویں اور درجہ حرارت میں معمولی تبدیلی کو بھی فوری طور پر پکڑ لیتے ہیں، جس سے آگ کو پھیلنے کا موقع نہیں ملتا۔ اس سے قبل روایتی نگرانی کے طریقوں میں آگ کا پتہ چلنے میں گھنٹوں یا دنوں کا وقت لگ جاتا تھا، جس کے دوران آگ بے قابو ہو جاتی تھی۔ اب اس جدید ٹیکنالوجی کی بدولت جنگلات کے تحفظ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کو کم کرنے میں مدد مل سکے گی۔ آئندہ چند برسوں میں اس ٹیکنالوجی کو دنیا بھر کے دیگر جنگلات میں بھی پھیلائے جانے کا قوی امکان ہے تاکہ قدرتی اثاثوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔