Business
امریکہ ایران کشیدگی: تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں عارضی وقفے اور بات چیت کے امکانات روشن ہونے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ پاکستان کی جانب سے چین کی حمایت کے ساتھ نئے مذاکرات کی کوششوں نے بھی اس صورتحال میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اس وقت بڑی گراوٹ دیکھنے میں آئی جب امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی اور حملوں کے سلسلے میں عارضی وقفے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی اشاروں پر ایران پر فضائی حملوں کو روکا گیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی بات چیت اور مذاکرات کا عمل کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں نے سکون کا سانس لیا ہے اور سرمایہ کاروں میں پائی جانے والی تشویش میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عارضی جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کے مثبت اثرات براہ راست اسٹاک مارکیٹس اور کموڈٹی ٹریڈنگ پر مرتب ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، برطانوی نشریاتی ادارے کی لائیو اپ ڈیٹس اور دیگر معاشی خبروں کے مطابق، اس تمام صورتحال میں پاکستان کی سفارتی کوششیں بھی نمایاں رہی ہیں۔ پاکستان نے چین کی پشت پناہی اور حمایت کے ساتھ امریکہ اور ایران کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے فعال کردار ادا کیا ہے، جس کی وجہ سے منڈی میں تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کم ہوئے ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ صورتحال اب بھی نازک ہے اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی جغرافیائی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، تاہم حملوں کے رکنے سے عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی لائنز کو عارضی طور پر بڑا ریلیف ملا ہے۔ آئندہے دنوں میں ہونے والے مذاکرات کے نتائج یہ طے کریں گے کہ تیل کی قیمتوں کا یہ downward رجحان کتنی دیر تک برقرار رہتا ہے اور آیا فریقین کسی مستقل حل کی طرف بڑھتے ہیں یا نہیں۔