Technology
استعمال شدہ لیپ ٹاپ خریدتے وقت دھوکہ دہی سے بچیں: مکمل گائیڈ
پرانے لیپ ٹاپ کی خریداری کے دوران خریداروں کو مختلف قسم کے فراڈ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس رپورٹ میں ہم ان 9 عام طریقوں کا ذکر کر رہے ہیں جن سے آپ خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
آج کے دور میں پرانے یا استعمال شدہ لیپ ٹاپ خریدنا ایک مقبول عمل بن چکا ہے کیونکہ یہ نئے لیپ ٹاپس کے مقابلے میں کافی سستے مل جاتے ہیں۔ تاہم، ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز کے برعکس، لیپ ٹاپ کو مسلسل نقل و حرکت اور مختلف ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ان میں خرابیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے، مارکیٹ میں ایسے عناصر موجود ہیں جو خراب لیپ ٹاپس کو مرمت کرکے یا ان کی خامیوں کو چھپا کر انہیں بالکل نیا بنا کر فروخت کر دیتے ہیں۔ ایک عام خریدار کے لیے ان باریکیوں کو پہچاننا انتہائی مشکل ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ لین دین سے قبل آپ مکمل جانچ پڑتال کریں۔
استعمال شدہ لیپ ٹاپس میں دھوکہ دہی کے نو عام طریقوں میں ہارڈ ویئر کی خرابیوں کو عارضی طور پر ٹھیک کرنا، نقلی پرزے (پارٹس) لگانا، بیٹری کی لائف کے بارے میں غلط بیانی، اور سکرین پر موجود ڈیڈ پکسلز کو چھپانا شامل ہیں۔ کئی بار فروخت کنندگان لیپ ٹاپ کی ہارڈ ڈرائیو کو بدل کر اس کی اصلی کارکردگی کو چھپا لیتے ہیں یا پھر سافٹ ویئر کے ذریعے سسٹم کی رفتار کو وقتی طور پر بہتر دکھاتے ہیں۔ اسی طرح، کی بورڈ کے بٹنوں کی خرابی، یو ایس بی پورٹس کا جام ہونا، اور چارجنگ پورٹ کی کمزوری بھی ایسی خامیاں ہیں جو ابتدائی طور پر نظر نہیں آتیں لیکن کچھ دن استعمال کے بعد سامنے آتی ہیں۔
اس کے علاوہ، ایک اور بڑا فراڈ لیپ ٹاپ کے 'بائیو' (BIOS) پاس ورڈ کا ہوتا ہے۔ اگر آپ نے لیپ ٹاپ خرید لیا اور بعد میں اس کے سسٹم کی ترتیبات کو تبدیل کرنا چاہا تو لاک ہونے کی صورت میں آپ کا پورا سرمایہ ضائع ہو سکتا ہے۔ اسی طرح، غیر قانونی یا چوری شدہ لیپ ٹاپس کی فروخت بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اکثر خریدار یہ نہیں جانتے کہ ان کے خریدے گئے ڈیوائس کا آئی ڈی (ID) کسی دوسرے مالک کے نام پر رجسٹرڈ ہے یا یہ کسی کمپنی کا چوری شدہ مال ہے۔
ان تمام دھوکہ دہی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ہمیشہ کسی قابل اعتماد دکان یا تصدیق شدہ فرد سے خریداری کریں۔ لیپ ٹاپ خریدنے سے پہلے اس کی باقاعدہ جانچ کریں، بیٹری کا ٹیسٹ چلائیں، تمام پورٹس میں یو ایس بی لگا کر چیک کریں، اور سسٹم کی کنفیگریشن کو اصلی ویب سائٹ کے ساتھ موازنہ کریں۔ اگر بیچنے والا آپ کو لیپ ٹاپ چیک کرنے کے لیے مناسب وقت نہیں دے رہا تو بہتر ہے کہ اس سودے سے گریز کریں کیونکہ احتیاط ہی آپ کو بڑے مالی نقصان سے بچا سکتی ہے۔