Politics
اسرائیلی سیاست میں گادی آئزنکوٹ اور سابق فوجی قیادت کا مستقبل
اسرائیلی سیاست میں سابق فوجی افسران کی بڑھتی ہوئی مداخلت اور ان کی سیاسی ساکھ پر عوامی حلقوں میں شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ گادی آئزنکوٹ جیسے اہم عسکری کرداروں کا سیاسی میدان میں کردار اب مبصرین کی جانب سے تنقید کی زد میں ہے۔
اسرائیلی سیاست کے افق پر ایک وقت تھا جب وردی پوش جرنیلوں کو قوم کے محافظ اور ہیرو کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن حالیہ برسوں میں منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہوا ہے۔ گادی آئزنکوٹ جیسے اہم سابق عسکری حکام کی سیاسی میدان میں شمولیت نے جہاں ایک طرف نئی بحث کو جنم دیا ہے، وہیں دوسری طرف ان کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بہت سے ناقدین کا ماننا ہے کہ سابق فوجی افسران کا سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنا نہ صرف ان کے ماضی کے غیر سیاسی کردار کو متاثر کر رہا ہے بلکہ عوام میں ان کی مقبولیت کا گراف بھی تیزی سے گر رہا ہے۔
اسرائیل کی ڈیموکریٹک پارٹی کی فہرست میں شامل ہونے والے یائر گولان اور نمرود شیفر جیسے نامور سابق فوجی افسران کے بارے میں عوامی حلقوں میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان فوجی افسران کا سیاسی سوچ اور عوامی خدمت کا تجربہ ان کی عسکری مہارت سے بالکل مختلف ہے، جس کی وجہ سے وہ عوام کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ گادی آئزنکوٹ، جو کبھی اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) کے سربراہ کے طور پر انتہائی بااثر شخصیت سمجھے جاتے تھے، اب خود کو سیاست کے پیچیدہ اور جوڑ توڑ والے کھیل میں غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، گادی آئزنکوٹ کا دور اب گزر چکا ہے کیونکہ نئی نسل اور سیاسی کارکنان اب روایتی فوجی قیادت کے بجائے سول قیادت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان کی سیاسی حکمت عملیوں کو نہ صرف اپوزیشن کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، بلکہ ان کے اپنے حامی بھی اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ فوجی پس منظر رکھنے والے افراد کس طرح ملک کو درپیش معاشی اور سماجی مسائل سے نکال سکیں گے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسرائیل میں عسکری اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کے لیے اب انتخابی میدان پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مشکل اور چیلنجنگ بن چکا ہے۔
آخر میں، گادی آئزنکوٹ اور ان کے جیسے دیگر جرنیلوں کا سیاسی سفر اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ میدانِ جنگ میں کامیابی حاصل کرنا اور ایوانِ اقتدار میں عوامی اعتماد جیتنا دو الگ الگ میدان ہیں۔ جب تک یہ فوجی قیادت اپنی سیاسی ترجیحات اور عوامی رابطے کو بہتر نہیں بناتی، تب تک ان کا اثر و رسوخ کمزور ہی رہے گا۔ مستقبل میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ سابق فوجی افسران اپنی سیاسی بقا کے لیے کوئی نئی حکمت عملی اپناتے ہیں یا پھر وہ تاریخ کے اوراق میں گم ہو کر رہ جائیں گے۔