LIVE
Loading Breaking News...

اسٹیٹ بینک آف پاکستان: شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار

News Image
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی اور بین الاقوامی معاشی صورتحال کے پیش نظر شرح سود کو گیارہ اعشاریہ پانچ فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور معاشی چیلنجز کے باعث یہ فیصلہ احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا ہے۔
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال اور عالمی منڈی کے رجحانات کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی پالیسی ریٹ کو گیارہ اعشاریہ پانچ فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ مرکزی بینک کے اس فیصلے کا بنیادی مقصد ملکی معیشت میں استحکام کو فروغ دینا اور افراط زر کے دباؤ کو قابو میں رکھنا ہے۔ معاشی مبصرین کے مطابق، حالیہ مہینوں میں ملک کے اندرونی اقتصادی اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پر غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور مقامی تجزیہ کاروں کے مطابق، مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور علاقائی جنگ کے بادلوں نے عالمی معیشت اور پاکستان کی تجارت پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستانی مرکزی بینک نے انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہوئے شرح سود میں کسی قسم کی ردوبدل نہ کرنے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہے اور کاروباری سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ مہنگائی کی شرح میں ماضی کے مقابلے میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے، تاہم توانائی کی عالمی قیمتوں اور سپلائی چین کے چیلنجز کی وجہ سے خطرات ابھی ٹلے نہیں ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود کو تاحال گیارہ اعشاریہ پانچ فیصد پر برقرار رکھنے سے برآمدات اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سہارا ملے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں اگر معاشی استحکام کا یہ سلسلہ جاری رہا تو مالیاتی پالیسی میں مزید نرمی کے حوالے سے سوچا جا سکتا ہے۔