LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں توانائی سیکیورٹی اور بیرونی سرمایہ کاری: علی پرویز ملک کا اہم بیان

News Image
وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری لانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ترک کمپنیوں کے ساتھ مل کر آف شور ڈرلنگ کا منصوبہ پاکستان کی توانائی سیکیورٹی کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔
وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ موجودہ حکومت ملک میں توانائی کے شعبے کو مستحکم کرنے اور طویل مدتی سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ وزیر پیٹرولیم کے مطابق حکومت کا بنیادی ہدف مقامی سطح پر ایندھن کی ضروریات کو پورا کرنا اور توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کا حصول ہے۔ اس مقصد کے لیے ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن اور نئی ٹیکنالوجیز کا نفاذ اولین ترجیح ہے جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ علی پرویز ملک نے انکشاف کیا کہ پاکستان کو توقع ہے کہ جلد ہی ریفائنریوں کی کایا پلٹنے کے لیے پانچ ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری حاصل ہوگی۔ اس سرمایہ کاری سے نہ صرف پیٹرولیم مصنوعات کی معیار میں بہتری آئے گی بلکہ درآمدی بل میں بھی نمایاں کمی متوقع ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کے انرجی سیکٹر میں ایک نئی روح پھونکنے کا باعث بنے گا، جس سے توانائی کی فراہمی میں تعطل کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ایک اور اہم پیش رفت کے حوالے سے وزیر نے بتایا کہ ترک پیٹرولیم کمپنی جلد ہی پاکستانی سمندری حدود میں آف شور ڈرلنگ کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کی توانائی تلاش کرنے کی حکمت عملی میں ایک اہم موڑ ہے۔ ترک ماہرین اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے سمندر میں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش سے ملک کے توانائی کے منظر نامے میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ انہوں نے اس تعاون کو پاکستان اور ترکیہ کے مابین گہرے دوستی کے تعلقات کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا۔ آخر میں علی پرویز ملک نے مکہ معاہدے کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بین الاقوامی معاہدے پاکستان کی معاشی ترقی کی راہ ہموار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نکالنے کے لیے پوری طرح متحرک ہے اور توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات آنے والے برسوں میں عوام کے لیے ریلیف کا باعث بنیں گی۔ حکومت کی ان پالیسیوں کا مقصد نہ صرف توانائی کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے بلکہ ایک مستحکم معاشی مستقبل کی بنیاد رکھنا بھی ہے جو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔