World
یمن میں حوثی کارروائیاں اور سعودی ریفائنری پر حملہ
یمن میں جاری حوثی باغیوں کے حملوں کے نتیجے میں کم از کم سات شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اسی دوران سعودی عرب کے شہر جازان میں آرامکو ریفائنری کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا جس پر آگ لگ گئی۔
یمن میں حوثیوں کی جانب سے جاری پرتشدد کارروائیوں نے ایک بار پھر خطے میں انسانی بحران اور جنگی کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ کر دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یمن کے مختلف علاقوں میں حوثی باغیوں کے حملوں کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان حملوں نے عام شہریوں کو براہ راست نشانہ بنایا ہے، جس سے انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق خاص طور پر بندرگاہِ موخا کے قریب رہائشی علاقوں پر کیے گئے بم دھماکوں نے عام شہریوں کے تحفظ پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر ان کارروائیوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب حوثی باغیوں نے سرحد پار سعودی عرب کو بھی اپنے حملوں کا ہدف بنایا ہے۔ سعودی عرب کے شہر جازان میں قائم آرامکو کی آئل ریفائنری پر کیے گئے ایک مشتبہ ڈرون حملے کے بعد تنصیب میں آگ بھڑک اٹھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ سعودی سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا، جس سے کسی بڑے جانی نقصان یا تیل کی پیداوار میں طویل تعطل سے بچاؤ ممکن ہو سکا۔ حوثی گروہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ باغی اب بنیادی انفراسٹرکچر اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنا کر خطے کی معیشت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ حملے اسی رفتار سے جاری رہے تو یمن ایک بار پھر مکمل خانہ جنگی کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے مستقل جنگ بندی کے مطالبات کے باوجود، زمینی صورتحال مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ حوثی باغیوں کا شہری آبادیوں اور حساس اقتصادی مراکز پر حملہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ خطے میں امن کی بحالی کے لیے جاری کوششوں کو بھی سبوتاژ کر رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، حوثی باغیوں کی یہ حکمت عملی دراصل اپنی سیاسی پوزیشن کو مضبوط کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے، جس کی بھاری قیمت عام یمنی عوام کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ یمن میں بڑھتی ہوئی یہ عسکری سرگرمیاں نہ صرف یمن کے داخلی استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ پورے خطے کی سلامتی کو بھی داؤ پر لگا رہی ہیں۔ فی الحال، سعودی عرب اور یمنی حکومتی فورسز نے اپنی سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا ہے تاکہ مزید کسی بھی جارحانہ کارروائی کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔