LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب آرامکو ریفائنری پر حملہ: حوثی باغیوں کے حملے کی تفصیلات

News Image
سعودی عرب کے شہر جازان میں واقع آرامکو آئل ریفائنری میں لگی آگ کو حکام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بجھا دیا ہے۔ یمنی حوثی باغیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر جازان میں واقع آرامکو آئل ریفائنری میں ایک دھماکے اور اس کے نتیجے میں لگنے والی آگ کے بعد ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ سعودی حکام کے مطابق، ریفائنری کے ایک حصے میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر کارروائی کا آغاز کیا۔ خوش قسمتی سے، آگ پر بروقت قابو پا لیا گیا اور اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم تنصیبات کو معمولی نقصان پہنچنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، یمن میں سرگرم حوثی باغیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثیوں کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے جدید ڈرونز اور میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب یمن میں جاری خانہ جنگی کے دوران کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس سے قبل یمن کے ساحلی شہر المخا میں بھی حوثی حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس سے خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حوثیوں کے حملے دراصل خطے میں جاری تناؤ کا تسلسل ہیں۔ آرامکو کی تنصیبات پر ماضی میں بھی حملے کیے جاتے رہے ہیں، جن کے جواب میں سعودی قیادت کی جانب سے جوابی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، حوثی ملیشیا کی جانب سے میزائلوں اور خود کار ڈرونز کا بڑھتا ہوا استعمال بین الاقوامی سمندری تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔ ادھر یمنی حکومت نے ملک بھر میں اپنی فوجی قوتوں کو متحد رہنے اور سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ سعودی اتحاد کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق رکھتے ہیں۔ عالمی برادری نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے خطے میں امن کے قیام کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ یمنی بحران کا دیرپا سیاسی حل نکالا جا سکے۔