LIVE
Loading Breaking News...

سمندری طوفان ڈولفن چین میں داخل، بڑے پیمانے پر ہنگامی انخلا شروع

News Image
سمندری طوفان ڈولفن نے چین کے مشرقی ساحلی علاقوں میں تباہی مچا دی ہے جس کے نتیجے میں انتظامیہ نے 10 لاکھ سے زائد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ اس طوفان نے جاپان کے جزیرے اوکیناوا اور تائیوان میں بھی شدید متاثر کیا ہے جہاں مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔
سمندری طوفان ڈولفن نے چین کے مشرقی ساحلی علاقوں میں شدید تباہی مچائی ہے، جس کے بعد مقامی حکام نے بڑے پیمانے پر ہنگامی انخلا کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق طوفان کے خطرے کے پیش نظر اب تک 10 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ انتظامیہ نے ساحلی علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر رکھا ہے تاکہ کسی بھی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ طوفان کے ساتھ آنے والی تیز ہواؤں اور موسلادھار بارشوں کے باعث مواصلاتی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے، اور نشیبی علاقوں میں پانی بھر جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل سمندری طوفان ڈولفن نے جاپان کے جزیرے اوکیناوا کے مختلف حصوں کو شدید متاثر کیا، جہاں تیز ہواؤں کے نتیجے میں 50 ہزار سے زائد عمارتوں کی بجلی منقطع ہو گئی۔ جاپانی حکام نے مقامی ہوائی اڈے کو بھی عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اوکیناوا میں درخت اکھڑنے اور عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد ریسکیو ٹیمیں بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ تائیوان کے شمال سے گزرتے ہوئے بھی اس طوفان نے کافی نقصان پہنچایا ہے، جہاں چینی خبر رساں اداروں کے مطابق 6 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ تیز ہواؤں کی رفتار اتنی زیادہ تھی کہ متعدد سڑکیں بند ہو گئیں اور ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ طوفان کی شدت تاحال برقرار ہے، جس کے باعث ساحلی علاقوں کے قریب رہنے والوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ چینی حکام متاثرہ علاقوں میں خوراک اور ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ مستقبل کے حوالے سے صورتحال کو مانیٹر کیا جا رہا ہے کیونکہ طوفان کا دائرہ کار مزید پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔ حکومت نے امدادی کاموں کے لیے فوج اور سول ڈیفنس کے دستوں کو طلب کر لیا ہے تاکہ ہنگامی حالات سے نمٹا جا سکے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔ جیسے جیسے طوفان آگے بڑھ رہا ہے، حکام صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں تاکہ جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔