World
جرمنی میں ہائبرڈ وارفیئر کا خطرہ: حکام نے سنگین انتباہ جاری کر دیا
جرمن وزیر داخلہ نے ملک کو درپیش جاسوسی، سائبر حملوں اور تخریبی کارروائیوں کو ایک مستقل حقیقت قرار دیا ہے۔ دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون کی برآمدگی کے بعد حکام نے ہائبرڈ جنگ کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔
جرمن حکومت نے ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے حوالے سے سنگین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جرمنی کو اب روزانہ کی بنیاد پر 'ہائبرڈ وارفیئر' (Hybrid Warfare) کا سامنا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکام نے حال ہی میں ایک دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون برآمد کیا، جس نے سکیورٹی ایجنسیوں کی دوڑ میں اضافہ کر دیا ہے۔ جرمن وزیر داخلہ نینسی فیسر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جاسوسی، تخریب کاری اور سائبر حملے اب جرمن معاشرے کے لیے ایک مستقل حقیقت بن چکے ہیں اور دشمن قوتیں ملک کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔
ماہرین کے مطابق، ہائبرڈ وارفیئر میں صرف فوجی طاقت کا استعمال نہیں ہوتا بلکہ اس میں غلط معلومات کا پھیلاؤ، اہم انفراسٹرکچر پر سائبر حملے اور خفیہ آپریشنز شامل ہیں جن کا مقصد کسی ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہوتا ہے۔ جرمنی میں حالیہ عرصے کے دوران غیر ملکی مداخلت کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے حکومتی سطح پر سکیورٹی پروٹوکولز کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ دھماکہ خیز مواد سے لدے ڈرون کی برآمدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ تخریبی کارروائیاں اب انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
جرمن خفیہ ایجنسیاں اور پولیس ادارے اب اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا یہ ڈرون کسی خاص تنظیم کا حصہ تھا یا اسے کسی ریاست کی پشت پناہی حاصل تھی۔ وزیر داخلہ نے شہریوں اور اداروں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر دیں کیونکہ ہائبرڈ جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی یکجہتی اور بیداری ناگزیر ہے۔ جرمنی کی جانب سے یہ انتباہ یورپی یونین اور نیٹو کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ موجودہ عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال میں سکیورٹی کے روایتی تصورات تبدیل ہو رہے ہیں اور ہمیں ہر قسم کے خفیہ حملوں کے خلاف چوکس رہنا ہوگا۔