Technology
گاڑیوں میں خودکار اسپیڈ کنٹرول سسٹم: نئی ٹیکنالوجی اور فوائد
موجودہ جدید گاڑیوں میں نصب ٹیکنالوجی اور ہارڈویئر مستقبل میں خودکار طریقے سے اسپیڈ لمٹ پر عمل درآمد کروانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ سہولت ابھی فعال نہیں ہے، لیکن جیوفینسنگ اور جی پی ایس کے ذریعے ٹریفک حادثات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
دنیا بھر میں آٹوموبائل انڈسٹری تیزی سے ارتقا کے منازل طے کر رہی ہے اور اب ایسی ٹیکنالوجی متعارف کروانے پر کام کیا جا رہا ہے جو ڈرائیور کی مرضی کے بغیر بھی گاڑی کی رفتار کو مقررہ حد کے اندر رکھ سکے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کل سڑکوں پر موجود بیشتر جدید گاڑیوں میں ایسا ہارڈویئر پہلے سے موجود ہے جو اسپیڈ کنٹرول کو ممکن بنا سکتا ہے، تاہم قانونی پابندیوں اور پالیسیوں کے فقدان کے باعث یہ فیچر ابھی تک فعال نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیوفینسنگ، گلوبل پوزیشننگ سسٹم یعنی جی پی ایس اور کیمروں کے جدید نیٹ ورک کے امتزاج سے مستقبل میں ایسی گاڑیاں تیار کی جا سکتی ہیں جنہیں کسی ٹریفک پولیس افسر کی مداخلت کے بغیر بھی رفتار کی حد کا پابند بنایا جا سکے گا۔ یہ ٹیکنالوجی براہ راست گاڑی کے سافٹ ویئر سے منسلک ہوگی جو سڑک پر نصب سائن بورڈز یا ڈیجیٹل میپ کے ذریعے رفتار کی حد کو پہچانے گی اور خودکار طور پر انجن کی طاقت کو کنٹرول کر لے گی۔ سڑکوں پر بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات اور تیز رفتاری کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کو روکنے کے لیے یہ ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ کئی ممالک میں حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ گاڑیوں کے سافٹ ویئر میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں جس سے گاڑی خود بخود اسکول کے علاقوں یا رہائشی کالونیوں میں اپنی رفتار کم کر لے۔ اس سسٹم کے تحت گاڑی کی رفتار پر قابو پانا صرف ایک بٹن کے کلک یا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کا معاملہ ہوگا، جس سے سڑکوں پر انسانی غلطی کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے گا۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی تکنیکی طور پر مکمل ہے، لیکن اس کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ ڈرائیونگ پرائیویسی اور انفرادی آزادی کے حقوق ہیں۔ بہت سے صارفین اس بات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں کہ کار ساز کمپنیاں گاڑی کے انجن پر مکمل کنٹرول حاصل کر کے ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتی ہیں۔ ان تحفظات کے باوجود، حکومتی سطح پر اس پر بحث جاری ہے کہ عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس ٹیکنالوجی کو کس طرح اور کب تک لازمی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے چند برسوں میں ہم ایسی سڑکیں دیکھیں گے جہاں گاڑیاں خود بخود ٹریفک قوانین کا احترام کریں گی۔