Business
لگژری واچ ڈیلر ڈیسمنڈ پینگ کی کامیابی کا سفر اور مالی نظم و ضبط
ایک لگژری واچ شاپ کے مالک ڈیسمنڈ پینگ نے اپنے والد کی کافی شاپ سے پیسے کی قدر اور بچت کا اہم سبق سیکھا۔ ان کا ماننا ہے کہ چھوٹی چھوٹی بچتیں ہی طویل مدتی مالی کامیابی کی بنیاد بنتی ہیں۔
سنگاپور سے تعلق رکھنے والے لگژری گھڑیوں کے مشہور تاجر ڈیسمنڈ پینگ نے اپنی کامیابی کا سفر ایک نہایت عاجزانہ پس منظر سے شروع کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک اہم ترین مالی سبق اپنے بچپن میں سیکھا جب وہ اپنے والد کی کافی شاپ پر ان کی مدد کیا کرتے تھے۔ اس وقت ایک کپ کافی کی قیمت محض 60 سینٹ ہوا کرتی تھی۔ ڈیسمنڈ بتاتے ہیں کہ انہیں وہ وقت بخوبی یاد ہے جب وہ گاہکوں سے 60 سینٹ وصول کرتے تھے، اور یہ چھوٹا سا عمل ان کی شخصیت اور کاروباری سوچ میں گہری جڑیں پکڑ گیا۔
ڈیسمنڈ پینگ کے مطابق، 60 سینٹ کی قیمت نے انہیں یہ سکھایا کہ پیسے کی اہمیت کیا ہوتی ہے اور ایک کاروباری شخص کے لیے ہر ایک سینٹ کی بچت اور اس کا صحیح استعمال کتنا ضروری ہے۔ اس ابتدائی تجربے نے انہیں سمجھایا کہ بڑے منافع اچانک نہیں آتے بلکہ وہ مسلسل محنت، چھوٹی چھوٹی بچتوں اور رقم کو منظم طریقے سے خرچ کرنے سے جنم لیتے ہیں۔ آج جب وہ دنیا بھر کی مہنگی ترین اور لگژری گھڑیوں کا کاروبار سنبھالتے ہیں، تب بھی ان کی مالی سوچ کی بنیاد وہی پرانے اسباق ہیں جو انہوں نے اپنی والد کی دکان پر سیکھے تھے۔
اپنے کیریئر کے دوران ڈیسمنڈ نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے، لیکن وہ ہمیشہ اپنے مالی نظم و ضبط پر قائم رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لگژری اشیاء کی مارکیٹ میں کام کرنا بظاہر بہت چمک دمک والا لگتا ہے، مگر پسِ پردہ سخت محنت اور مالیاتی منصوبہ بندی ہی وہ عوامل ہیں جو کسی کاروبار کو پائیدار بناتے ہیں۔ انہوں نے اپنے تجربات سے سیکھا کہ دولت جمع کرنے کا راز اس میں نہیں کہ آپ کتنے پیسے کماتے ہیں، بلکہ اس میں ہے کہ آپ کس طرح اپنے وسائل کا انتظام کرتے ہیں اور غیر ضروری اخراجات سے کیسے بچتے ہیں۔
آج ڈیسمنڈ پینگ نہ صرف سنگاپور میں گھڑیوں کے بڑے تاجر کے طور پر جانے جاتے ہیں بلکہ وہ بہت سے نئے کاروباری افراد کے لیے ایک مثال بھی ہیں۔ ان کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کامیابی کے لیے بڑے سرمائے سے زیادہ درست سوچ اور پیسوں کے احترام کی ضرورت ہوتی ہے۔ 60 سینٹ کی کافی سے لے کر کروڑوں کی گھڑیوں تک کا ان کا یہ سفر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی میں جو بھی کام کریں، اس کی باریکیوں کو سمجھنا اور چھوٹی کامیابیوں کا جشن منانا ہی دراصل ترقی کا اصل راستہ ہے۔