LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور سائنسی تحقیق: جعلی دریافتوں کا بڑھتا ہوا خطرہ

News Image
جنریٹو اے آئی ٹیکنالوجی اگرچہ سائنسی ایجادات میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، لیکن یہ ماہرین کو غیر حقیقی حیاتیاتی اثرات پر یقین دلانے کا خطرہ بھی رکھتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کے ذریعے تیار کردہ غلط ڈیٹا سائنسی تحقیق کو گمراہ کر سکتا ہے۔
جدید دور میں مصنوعی ذہانت (AI) خاص طور پر 'جنریٹو اے آئی' سائنسی دنیا میں انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ادویات کی تیاری اور پیچیدہ حیاتیاتی ڈیٹا کے تجزیے میں سائنسدانوں کی مدد کر رہی ہے۔ تاہم، حال ہی میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہی ٹیکنالوجی سائنسدانوں کو ایسے حیاتیاتی اثرات یا دریافتوں پر یقین دلا سکتی ہے جن کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے کیونکہ سائنسی تحقیق مکمل طور پر درست ڈیٹا پر منحصر ہوتی ہے، اور اگر اے آئی اس ڈیٹا میں غلطیوں یا خیالی نتائج کو شامل کر دے تو پوری تحقیق غلط ثابت ہو سکتی ہے۔ جنریٹو اے آئی کا بنیادی کام موجودہ ڈیٹا سے سیکھ کر نیا مواد تخلیق کرنا ہے۔ طبی اور حیاتیاتی میدان میں یہ سسٹم مختلف مالیکیولز کے اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سسٹم اکثر ایسی معلومات تخلیق کر دیتا ہے جو بظاہر تو بہت مستند اور سائنسی لگتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی۔ اس قسم کی 'ہیلوسینیشن' یا مصنوعی غلط فہمی سائنسی لیبارٹریوں میں کام کرنے والے محققین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ وہ ایسی دواؤں یا فارمولوں پر وقت اور سرمایہ ضائع کر سکتے ہیں جو کبھی کام ہی نہیں کریں گے۔ اس مسئلے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اب عالمی سطح پر سائنسی برادری میں بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا اے آئی کے استعمال کے لیے سخت ضوابط کی ضرورت ہے۔ سائنسی مقالوں اور ڈیٹا کی تصدیق کے لیے اب انسانی نگرانی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔ محققین کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اے آئی سے حاصل کردہ نتائج کو حتمی سمجھنے کے بجائے ان کی لیبارٹری تجربات کے ذریعے تصدیق کریں۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اب ایسے ماڈلز تیار کرنے پر کام کر رہی ہیں جو غلط معلومات یا 'جعلی سائنسی حقائق' کو پھیلانے سے روک سکیں تاکہ انسانی صحت اور سائنسی ترقی کو محفوظ رکھا جا سکے۔ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کا کردار سائنسی شعبے میں ناگزیر ہے، لیکن اس کا ذمہ دارانہ استعمال ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اگر ہم نے اے آئی کی تخلیق کردہ معلومات پر بغیر سوچے سمجھے بھروسہ کرنا شروع کر دیا، تو ہم سائنسی تحقیق کی بنیادوں کو کمزور کر دیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محققین اے آئی کو ایک معاون کے طور پر استعمال کریں، نہ کہ ایک حتمی اتھارٹی کے طور پر۔ سائنسی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے تکنیکی مہارت اور انسانی عقل کا توازن ہی سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہوگا۔