Pakistan
پاک سعودی ترکی دفاعی معاہدہ خطے کے لیے کھلا ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔ اس تاریخی معاہدے میں خطے کے دیگر ممالک کو بھی شامل کرنے کے دروازے کھلے ہیں۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین طے پانے والا دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس میں خطے کے دیگر ممالک کو بھی شامل کرنے کی پوری گنجائش موجود ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد علاقائی سلامتی کو فروغ دینا اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ ترکی کے ایک وزیر نے بھی اس معاہدے کو نیٹو کے آرکیٹیکچر سے تشبیہ دی ہے جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تاریخی دفاعی معاہدے کو خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک منظرنامے میں یہ اتحاد انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس معاہدے کے تحت تینوں برادر اسلامی ممالک سکیورٹی اور دفاعی امور میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں گے اور درپیش چیلنجز سے مشترکہ طور پر نبردآزما ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس دفاعی تعاون کا مقصد کسی بھی فریق کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ خطے میں ایک مؤثر دفاعی ڈھکن فراہم کرنا ہے۔ اس معاہدے کے دروازے خطے کے دیگر امن پسند ممالک کے لیے بھی کھلے ہیں جو علاقائی استحکام چاہتے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات میں یہ ایک نیا سنگ میل ہے جو آنے والے وقتوں میں دفاعی اور معاشی میدانوں میں بھی گہرے تعاون کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومتِ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے اس طرح کے تمام اقدامات کی حامی ہے اور اس معاہدے کو بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے۔