LIVE
Loading Breaking News...

آزاد کشمیر الیکشن: پنجاب پولیس کی تعیناتی پر پیپلز پارٹی کا اعتراض

News Image
آزاد کشمیر کے انتخابی عمل کے دوران پنجاب پولیس کی آمد پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ حکام کے مطابق پونچھ ڈویژن کی نشستوں پر ووٹنگ 20 سے 21 اگست تک متوقع ہے۔
آزاد کشمیر میں جاری انتخابی عمل کے دوران سیاسی کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے سربراہ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران سنگین الزامات عائد کیے ہیں کہ پنجاب پولیس کو آزاد کشمیر میں 'مخصوص مقاصد' کے تحت بلایا گیا ہے، جس سے آزادانہ و منصفانہ انتخابات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس پیش رفت کو انتخابات پر اثر انداز ہونے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اضافی نفری کی ضرورت پیش آئی تھی تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔ دریں اثنا، چیف الیکشن کمشنر نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ آزاد کشمیر کے پونچھ ڈویژن میں جن نشستوں پر انتخابات ملتوی ہوئے تھے، وہاں ووٹنگ کا عمل 20 سے 21 اگست تک منعقد کیا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل سیکیورٹی خدشات اور سیاسی بدامنی کے باعث پونچھ اور پلندری کے علاقوں میں پولنگ کے عمل کو عارضی طور پر موخر کر دیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اب دوبارہ تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے تاکہ عوام اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔ دوسری جانب حکومتی اتحاد کی جانب سے بھی بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اس حوالے سے موقف اختیار کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے لیے مطلوبہ تعداد سے صرف چھ نشستیں دور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنے کے لیے جوائنٹ ایکشن کمیٹی (JAAC) کی جانب ہاتھ بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے پرامن انتخابات کے انعقاد کو اولین ترجیح قرار دیا ہے تاہم اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات برقرار ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، آنے والے چند دن آزاد کشمیر کی سیاست کے لیے انتہائی اہم ہیں، کیونکہ الیکشن کے نتائج ہی اگلی حکومت کا تعین کریں گے۔