LIVE
Loading Breaking News...

جنازہ ڈائریکٹر کا اسکینڈل: عدالت میں خاندانوں کا اعتماد توڑنے کا انکشاف

News Image
برطانیہ میں ایک جنازہ ڈائریکٹر کے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ اس نے لاوارث یا غیر دفن شدہ لاشوں کے معاملے میں خاندانوں کے ساتھ صریح دھوکہ کیا۔ عدالت میں اس سنسنی خیز کیس کے دوران تدفین کے نظام میں سنگین کوتاہیوں کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔
برطانیہ میں تدفین کے امور سے وابستہ ایک جنازہ ڈائریکٹر رابرٹ بش کے خلاف جاری قانونی کارروائی کے دوران عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ملزم نے فوت شدہ افراد کے لواحقین کے ساتھ سنگین غفلت کا مظاہرہ کیا۔ استغاثہ کے مطابق ملزم نے تجارتی مقاصد اور لاپرواہی کی انتہا کرتے ہوئے صنعتی پیمانے پر لوگوں کا اعتماد مجروح کیا ہے۔ عدالت میں سماعت کے دوران فریقین نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ کس طرح ایک ذمہ دار ادارے نے انسانی عزت اور احترام کو پامال کیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ ہولناک تفصیلات بھی سامنے آئیں کہ تدفین کے اس مرکز کے اندرونی حالات کو کسی ڈراؤنے خواب یا ہورر سین سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ لواحقین جو اپنے پیاروں کی آخری رسومات اور باعزت تدفین کے لیے پرامید تھے، انہیں شدید صدمے سے دوچار ہونا پڑا۔ پولیس اور متعلقہ تفتیشی اداروں نے اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے شواہد اکٹھے کیے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اس گھناؤنے فعل نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ ملزم کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے غیر انسانی رویوں کی روک تھام کی جا سکے۔ جج نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ یہ واقعہ تدفین کے پیشے سے وابستہ اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اور انسانی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں عدالت اس ہائی پروفائل کیس میں کوئی اہم فیصلہ صادر کرے گی، جس پر پورے ملک کی نظریں مرکوز ہیں۔