Technology
جولین اسانژ کی ٹیکنالوجی اور نگرانی کے نظام پر تنقید
وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ نے جدید ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اثر و رسوخ پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے گوگل گلاسز اور نگرانی کے نظام کے حوالے سے انسانی مستقبل کے بارے میں ایک تاریک پیش گوئی کی ہے۔
وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ نے اپنی زندگی بھر جدید ٹیکنالوجی کمپنیوں اور عالمی نگرانی کے نظام کے خلاف ایک پرزور موقف اپنایا ہے۔ ان کی حالیہ بات چیت میں، انہوں نے مستقبل کے بارے میں ایک خوفناک تصویر پیش کی ہے، جہاں ٹیکنالوجی محض سہولت کا نام نہیں بلکہ انسانی آزادی پر قدغن لگانے کا ایک آلہ بن چکی ہے۔ اسانژ نے خاص طور پر گوگل گلاسز جیسی ایجادات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی مستقبل کا نظارہ دیکھنا چاہے تو اسے ان آلات کو انسانی چہروں پر مستقل طور پر لگا ہوا تصور کرنا چاہیے، جو نہ صرف ذاتی زندگی میں مداخلت کریں گے بلکہ ہر لمحہ نگرانی کے عمل کو یقینی بنائیں گے۔
اسانژ کا موقف ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں اور واشنگٹن کے حمایت یافتہ نیٹ ورکس مل کر ایک ایسا ڈیجیٹل جال بُن رہے ہیں جس سے فرار ناممکن ہے۔ ان کے نزدیک، ٹیکنالوجی کا مقصد اب معلومات کی ترسیل کے بجائے انسانی رویوں کو کنٹرول کرنا اور ہر قسم کے ڈیٹا کو حکومتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بن گیا ہے۔ اس تنقید میں اسانژ نے جس شدت کا اظہار کیا ہے، وہ ان کی ان تحقیقات اور انکشافات کا تسلسل ہے جو انہوں نے وکی لیکس کے ذریعے عالمی سطح پر کیے تھے۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس 'خوشنما' مستقبل کے پیچھے درحقیقت انسانی شناخت کا خاتمہ چھپا ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اسانژ کا یہ بیان ٹیکنالوجی کے اخلاقی اور سماجی اثرات پر ایک بڑی بحث کو جنم دیتا ہے۔ آج جبکہ مصنوعی ذہانت اور پہننے کے قابل گیجٹس (wearable gadgets) ہماری زندگیوں میں سرایت کر چکے ہیں، اسانژ کا خبردار کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمیں اپنی ڈیجیٹل خودمختاری کے بارے میں زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ ان کی باتیں بہت سے لوگوں کو انتہائی لگ سکتی ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں ڈیٹا سیکیورٹی کے بحرانوں نے اسانژ کے ان خدشات کو کسی حد تک درست ثابت کیا ہے۔ ٹیکنالوجی کا یہ بے لگام استعمال اب عالمی سطح پر ایک سنگین سوالیہ نشان بن چکا ہے کہ آیا ہم اپنی سہولت کے بدلے اپنی آزادی تو نہیں بیچ رہے۔