LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین کا ایران کی دھمکیوں کو مسترد کرنے کا اعلان، بحیرہ کیسپرین حملہ

News Image
یوکرین نے بحیرہ کیسپرین میں ہونے والے حالیہ حملے پر تہران کی جانب سے ملنے والی شدید دھمکیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ اس واقعے نے مشرق وسطیٰ اور یوکرین کی جنگ کو براہ راست آپس میں جوڑ دیا ہے۔
کیف: یوکرین نے بحیرہ کیسپرین میں پیش آنے والے حالیہ سمندری واقعے اور حملے کے بعد ایرانی حکومت کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اس کشیدگی نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس واقعے نے یوکرین کی جنگ اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کو ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست جوڑ دیا ہے۔ عالمی سطح پر اس پیشرفت کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور سفارتی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ دوسری جانب تہران کی طرف سے اس حملے پر انتہائی شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کے حملے ہرگز قابلِ برداشت نہیں ہیں اور ان کا جواب ضرور دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ بحیرہ کیسپرین میں پیش آنے والا یہ واقعہ ملکی سلامتی کے خلاف ایک سنگین قدم ہے جس پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ تہران کی اس سخت گیر پالیسی نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور تمام فریقین محتاط ہو گئے ہیں۔ دوسری طرف یوکرین کے حکام نے ان تمام ایرانی دھمکیوں کو دباؤ کی ایک اور کوشش قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ یوکرینی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا حق رکھتے ہیں اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے آگے ہرگز نہیں جھکیں گے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس تنازع کے بعد اب عالمی سیاست میں نئے محاذ کھلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جو آنے والے دنوں میں بین الاقوامی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔