World
ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز پر کشیدگی اور تردید
ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہ راست مذاکرات کی تردید کی ہے۔ دوسری جانب یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی ایک ریفرینری پر حملے کا دعویٰ کیا ہے جس سے خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
تہران نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اہم ترین تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے حوالے سے براہ راست مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ عمان کے توسط سے ہونے والا معاہدہ اپنے حتمی مراحل میں ہے، لیکن اس آبنائے کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے واشنگٹن کو پہلے اپنے وعدے پورے کرنا ہوں گے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ امریکہ کے دباؤ کے سامنے سر جھکانے کے بجائے خطے کے امن اور اپنے مطالبات پر ڈٹا ہوا ہے اور جون کی یادداشتِ مفاہمت پر عمل درآمد کا خواہاں ہے۔
اسی دوران، یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں واقع ایک ریفرینری پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، جس سے خطے میں سکیورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ڈیڈ لاک اور حوثی حملوں کی تازہ لہر سے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی اور توانائی کی قیمتوں پر شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مغربی ممالک کی طرف سے مسلسل مطالبات کے باوجود تہران اپنی شرائط پر قائم ہے اور امریکہ سے براہ راست بات چیت کے امکان کو مسترد کر رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، خطے میں جاری اس سفارتی ڈیڈ لاک اور عسکری کارروائیوں نے خلیجی ممالک میں نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ اگرچہ اومان کے ذریعے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں اور ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدہ قریب ہے، تاہم امریکہ کی طرف سے عملی اقدامات کے بغیر اس بحران کا حل مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے اس راستے کی بندش یا یہاں کشیدگی دنیا بھر کی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔