World
فرانس اسپین جنگلاتی آگ متاثرین کے بیانات اور انخلا
فرانس اور اسپین کے جنگلات میں لگنے والی شدید آگ کے باعث تین لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا ہے۔ مقامی افراد اور سیاحت کے لیے آنے والوں نے اس قدرتی آفت کے دوران پیش آنے والے خوفناک مناظر اور پریشانی کی داستانیں سنائی ہیں۔
فرانس اور اسپین میں جنگلات میں لگنے والی شدید اور بے قابو آگ نے خطے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، جہاں آگ کے باعث تین لاکھ سے زائد افراد کو اپنے گھروں اور تفریحی مقامات کو چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لینا پڑی ہے۔ متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں اور وہاں موجود سیاحوں نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اس خوفناک صورتحال کا مفصل احوال بیان کیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اتنی بڑی تباہی اور شعلوں کا اس قدر خوفناک راج کبھی نہیں دیکھا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق آگ کے بڑے بڑے شعلے کسی دیوار کی مانند تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے، جس نے راستے میں آنے والی ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس اچانک اور تباہ کن صورتحال نے لوگوں کو شدید ذہنی دباؤ اور بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ وہ اپنے پیاروں اور املاک کی حفاظت کے لیے سخت پریشان تھے۔ مقامی انتظامیہ اور فائر فائٹرز کی ٹیمیں آگ پر قابو پانے کے لیے دن رات جدوجہد کر رہی ہیں، تاہم تیز ہواؤں اور خشک موسم کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حکام کی ہدایات پر عمل کریں اور بلا ضرورت باہر نکلنے سے گریز کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور شدید گرمی کی لہر نے ان جنگلاتی آگ کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ کر دیا ہے، جس سے انسانی جانوں اور قدرتی ماحول کو شدید خطرات لاحق ہیں۔