LIVE
Loading Breaking News...

میر رضا علی قتل کیس: سندھ حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا فیصلہ

News Image
سندھ حکومت نے کراچی کے تاجر میر رضا علی کے مشکوک قتل کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ پوسٹ مارٹم کی دوسری رپورٹ میں تشدد اور گولی لگنے کے نشانات کی تصدیق کے بعد کیس میں قتل کی دفعات شامل کر دی گئی ہیں۔
سندھ حکومت نے کراچی کے نامور تاجر میر رضا علی کے مشکوک حالات میں انتقال کے معاملے پر عوامی اور قانونی حلقوں کے شدید دباؤ کے بعد ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب میر رضا علی کی میت کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا، جس کی رپورٹ نے کیس کا رخ مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ ابتدائی طور پر اس معاملے کو ایک عام موت قرار دیا جا رہا تھا، تاہم خاندان کے اعتراضات اور شکوک و شبہات کے بعد جب عدالتی احکامات پر دوبارہ پوسٹ مارٹم کرایا گیا تو حقائق بالکل الگ نکلے۔ ذرائع کے مطابق، دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں میر رضا علی کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات پائے گئے ہیں جبکہ رپورٹ میں گولی لگنے کا زخم بھی نمایاں طور پر ظاہر ہوا ہے۔ اس اہم انکشاف کے بعد مقامی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر میں قتل کی دفعات شامل کر لی ہیں اور اس کیس کو اب ایک ہائی پروفائل قتل کی تحقیقات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے ان نتائج نے جہاں لواحقین کے خدشات کو درست ثابت کر دیا ہے، وہیں پولیس کی ابتدائی تفتیشی کارکردگی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سندھ حکومت کی جانب سے عدالتی کمیشن کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ اس کیس کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے تاکہ مقتول کے لواحقین کو انصاف فراہم ہو۔ اس سے قبل، پولیس کی جانب سے بھی ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس کا مقصد واقعے کے محرکات اور ملوث افراد کا سراغ لگانا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ تمام تر تکنیکی شواہد، فرانزک رپورٹس اور پوسٹ مارٹم کے نتائج کو یکجا کر کے کیس کی گہرائی سے چھان بین کی جا رہی ہے۔ تفتیش کاروں نے اب تک کئی مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کا عمل شروع کر دیا ہے اور واقعے کے وقت موجود افراد کے بیانات بھی قلمبند کیے جا رہے ہیں۔ میر رضا علی کے قتل کے اس ہولناک واقعے نے تاجر برادری میں بھی شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور شہر بھر میں انصاف کے لیے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا، چاہے وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں۔