LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا پر دباؤ

News Image
ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا سے اپنے مطالبات کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ عمان کے ساتھ معاہدہ آخری مراحل میں ہے لیکن امریکا کو بھی پیش رفت کرنی ہوگی۔
ایران نے ایک اہم بیان میں آبنائے ہرمز کو معمول کے مطابق مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا سے اپنے مطالبات کی منظوری کو مشروط قرار دیا ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور بین الاقوامی تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے امریکا کو اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ ایران کی جانب سے یہ سخت موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے اس اہم ترین راستے کو لے کر خدشات بڑھ رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ میں آکر ہتھیار نہیں ڈالے گا بلکہ اپنے جائز مطالبات پر ڈٹا رہے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان ایک ممکنہ معاہدے کے حوالے سے بات چیت آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ تاہم ایران کے اعلیٰ حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ صرف عمان کے ساتھ بات چیت کافی نہیں ہے بلکہ امریکا کو بھی اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہوگی اور ایران کے تحفظات دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ تہران کا مطالبہ ہے کہ واشنگٹن کو خطے میں اپنی پالیسیوں میں توازن لانا ہوگا تاکہ آبنائے ہرمز میں معمول کی نقل و حمل کو بحال کیا جا سکے۔ دوسری جانب بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ ایران کا یہ تازہ اقدام ایک سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکا پر براہ راست دباؤ ڈالنا ہے۔ حالیہ تنازعات اور خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران نے اپنی پوزیشن کو مستحکم رکھنے کے لیے مطالبات کی ایک طویل فہرست امریکا کے سامنے رکھی ہے۔ اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت کے امکانات محدود ہیں، لیکن ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔ ایران کا یہ دو ٹوک مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی بھی یکطرفہ رعایت دینے کے بجائے باہمی مفادات کی بنیاد پر معاملات طے کرنے کا خواہاں ہے۔ مستقبل کے حوالے سے یہ صورتحال کافی پیچیدہ دکھائی دیتی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کا معاملہ نہ صرف ایران اور امریکا بلکہ پوری دنیا کی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر یہ بحران طول پکڑتا ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی لائنوں پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اب پوری دنیا کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ آیا بائیڈن انتظامیہ ایران کے ان مطالبات پر کوئی مثبت ردعمل دیتی ہے یا پھر خطے میں کشیدگی کا یہ نیا باب مزید تلخیوں کی طرف بڑھے گا۔