World
سبسطیہ ورثہ: یونیسکو کا فیصلہ اور اسرائیلی توسیع پسندی
مغربی کنارے میں واقع تین ہزار سال پرانے تاریخی مقام سبسطیہ کو اسرائیلی زمینوں پر قبضے اور بستیوں کی توسیع کے منصوبوں کی وجہ سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یونیسکو کی جانب سے ورثہ قرار دیے جانے کے بعد اس تاریخی ورثے کے تحفظ کی امید بندھی ہے۔
مغربی کنارے میں واقع تین ہزار سال پرانے تاریخی مقام سبسطیہ کو اس وقت شدید خطرات کا سامنا ہے جب اسرائیل کی جانب سے وہاں زمینوں پر قبضے اور بستیوں کی توسیع کے منصوبوں میں تیزی لائی جا رہی ہے۔ یہ تاریخی مقام اپنے اندر قدیم تہذیبوں کے انمٹ نقوش اور اہم آثارِ قدیمہ سموئے ہوئے ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر ثقافتی ورثے کا ایک اہم ترین حصہ مانا جاتا ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی تنظیمیں اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کر رہی ہیں کہ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو خطے کی یہ تاریخی اور ثقافتی شناخت ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں یونیسکو کی جانب سے اس تاریخی مقام کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کرنے کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا اس بین الاقوامی اقدام سے اسرائیل کے متنازع منصوبوں کو روکا جا سکے گا یا نہیں۔ مقامی فلسطینی حکام اور ثقافتی امور کے ماہرین نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم زمینی حقائق کے پیش نظر وہ تاحال محتاط دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی بین الاقوامی فیصلوں کو زمینی سطح پر صوابدیدی طور پر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، جس کی وجہ سے تاریخی مقامات کے تحفظ کو یقینی بنانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس اقدام سے عالمی سطح پر دباؤ تو ضرور بڑھے گا، لیکن سبسطیہ کے تحفظ کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس قیمتی ورثے کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا انہدام سے بچایا جا سکے۔