LIVE
Loading Breaking News...

فلسطین میں صحافیوں پر حملوں میں اضافہ، نئی رپورٹ منظر عام پر

News Image
فلسطینی جرنلسٹس سنڈیکیٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق صرف جولائی کے مہینے میں فلسطینی صحافیوں کو 108 بار حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں شہید ہونے والے صحافیوں کی تعداد 270 سے تجاوز کر چکی ہے۔
فلسطینی جرنلسٹس سنڈیکیٹ نے ایک تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور خاص طور پر غزہ کی پٹی میں صحافیوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، صرف جولائی کے مہینے میں فلسطینی صحافیوں کے خلاف تشدد کے 108 واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں براہ راست گولہ باری، دھمکیاں اور دیگر ہراساں کرنے کے ہتھکنڈے شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار ان سنگین خطرات کی عکاسی کرتے ہیں جن کا سامنا غزہ کے میڈیا نمائندوں کو ہر لمحہ کرنا پڑ رہا ہے۔ تنظیم نے مزید بتایا ہے کہ اکتوبر 2023 سے جاری حالیہ کشیدگی کے بعد سے اب تک 270 سے زائد فلسطینی صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے شہید ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد عالمی صحافتی تاریخ میں کسی بھی تنازع کے دوران شہید ہونے والے صحافیوں کی سب سے بڑی تعداد میں سے ایک ہے، جس پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صحافی، جو دنیا کو غزہ کے حالات سے آگاہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اب خود غیر محفوظ ہو چکے ہیں اور ان پر ہونے والے حملے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ فلسطینی جرنلسٹس سنڈیکیٹ نے عالمی برادری اور میڈیا کی آزادی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ سنڈیکیٹ کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنا بین الاقوامی معاہدوں کے تحت لازم ہے، تاہم غزہ میں اس کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ صحافیوں پر حملوں کا مقصد دراصل سچائی کی آواز کو دبانا ہے تاکہ دنیا غزہ میں ہونے والے مظالم سے بے خبر رہے۔ مزید برآں، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکثر صحافی ضروری حفاظتی آلات اور میڈیا جیکٹس پہننے کے باوجود ہدف بنے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف آزادی صحافت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے بلکہ انسانی اقدار کے لیے بھی ایک لمحہ فکریہ ہے۔ بین الاقوامی صحافتی اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کریں اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے آواز بلند کریں تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کو روکا جا سکے۔