Technology
امریکی فوج کا ڈرون شکن میزائل پروگرام، جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی کا حصول
امریکی فوج اپنے دفاعی نظام کو جدید خطرات سے نمٹنے کے لیے 'این جی سی ایم' پروگرام کے تحت نئے میزائل تیار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈرونز کو فوری طور پر نشانہ بنا کر تباہ کرنا ہے۔
امریکی فوج نے ایک انتہائی اہم اور جدید پروگرام کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد ایسے جدید زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل (Surface-to-Air Missiles) تیار کرنا ہے جو خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈرونز کو فوری اور مؤثر طریقے سے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ موجودہ جنگی حالات میں ڈرونز کا بڑھتا ہوا خطرہ امریکی دفاعی حکمت عملی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جس کے پیش نظر فوج اب 'این جی سی ایم' (NGCM) نامی پروگرام کے تحت ایک ایسا نظام وضع کر رہی ہے جو انتہائی تیز رفتار اور درست نشانے کے ساتھ ڈرون خطرات کو جڑ سے ختم کر سکے۔
نئے میزائل پروگرام کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ یہ پہلے سے آزمودہ 'کوئوٹے' (Coyote) کاؤنٹر ڈرون لانچ انفراسٹرکچر پر مبنی ہوگا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ نیا میزائل سسٹم موجودہ دفاعی ڈھانچے میں آسانی سے ضم ہو جائے گا، جس سے فوج کو نئے سرے سے بنیادی ڈھانچہ کھڑا کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف چھوٹے ڈرونز کے خلاف کارگر ثابت ہوگی بلکہ بڑے پیمانے پر ڈرون حملوں کی صورت میں بھی فوری جوابی کارروائی کے قابل ہوگی، جس سے میدانِ جنگ میں امریکی فوج کی دفاعی پوزیشن مزید مستحکم ہو جائے گی۔
امریکی فوج کی جانب سے اس منصوبے کے لیے سخت تقاضے مقرر کیے گئے ہیں، جن میں میزائل کی رفتار، ہدف کو ٹریک کرنے کی جدید صلاحیت اور کم وقت میں زیادہ ہدف کو نشانہ بنانے کی اہلیت شامل ہے۔ حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ جدید جنگی میدان میں وقت کی اہمیت سب سے زیادہ ہے، لہذا یہ میزائل سسٹم ایسے سافٹ ویئر اور سینسرز سے لیس ہوں گے جو چند سیکنڈز کے اندر ڈرون کی شناخت کر کے اسے زمین بوس کرنے کے قابل ہوں گے۔ یہ پیش رفت دفاعی شعبے میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاس ہے جہاں اب روایتی جنگی ہتھیاروں کی جگہ سمارٹ اور خودکار ہتھیاروں نے لے لی ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ اقدام عالمی سطح پر ڈرون ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جیسے جیسے نجی اور عسکری سطح پر ڈرونز کی دستیابی بڑھ رہی ہے، ویسے ہی ان سے نمٹنے کے لیے جدید میزائل سسٹم کی طلب میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ امریکی فوج کا یہ نیا منصوبہ نہ صرف اپنی سرحدوں اور اثاثوں کے دفاع کو یقینی بنائے گا بلکہ اتحادی ممالک کے لیے بھی ایک نئی دفاعی مثال قائم کرے گا۔ امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس پروگرام کے تحت ٹیسٹنگ کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا جس کے بعد یہ میزائل سسٹم باقاعدہ طور پر امریکی فوج کا حصہ بن جائیں گے۔