LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور وائرس: کیا اے آئی انسانیت کے لیے نیا خطرہ ہے؟

News Image
سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسے نئے وائرس تیار کیے ہیں جو اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت رکھنے والے جراثیم کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال انسانیت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
سائنسی دنیا میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال سے ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے، جہاں محققین نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایسے نئے وائرس تیار کر لیے ہیں جو لیبارٹری کے ماحول میں اپنی نقل بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس پیش رفت کا بنیادی مقصد اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والے خطرناک جراثیموں کا خاتمہ کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں میڈیکل کے شعبے میں ایک انقلاب ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ روایتی ادویات اب کئی مہلک جراثیموں پر اثر انداز نہیں ہو رہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر صحت کا ایک بڑا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ تاہم، اس تحقیق کے ساتھ ہی ماہرین نے خدشات کا اظہار بھی کیا ہے کہ جس طرح اے آئی وائرس کو ختم کرنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے، اسی طرح اسے خطرناک پیتھوجینز بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ صورتحال کسی سائنس فکشن فلم کی مانند خوفناک معلوم ہوتی ہے جہاں ٹیکنالوجی کے خالق ہی اس کے نقصانات پر پریشان ہیں۔ کچھ سائنسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں چلی گئی یا اس پر سخت سکیورٹی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ دنیا کے لیے 'قیامت خیز' ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ وائرس کی تخلیق کے فارمولے تک رسائی عالمی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں بائیو سیفٹی کے ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے وائرس اور بیکٹیریا پر تحقیق کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر سخت قوانین وضع کیے جائیں تاکہ اس جدید ٹیکنالوجی کے فوائد تو حاصل کیے جا سکیں لیکن انسانیت کو کسی بڑی تباہی سے بھی بچایا جا سکے۔ ابھی یہ فیصلہ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ تحقیق اینٹی بائیوٹک بحران کا حتمی حل ہے یا پھر ہم اپنی ہی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی کے جال میں پھنس رہے ہیں۔