Business
قابل تجدید توانائی: نائجیریا کا مقامی پیداوار بڑھانے کا اہم فیصلہ
نائجیریا کی وفاقی حکومت نے ملک میں قابل تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیز کی مقامی سطح پر تیاری کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد درآمدات پر انحصار ختم کرکے مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
نائجیریا کی وفاقی حکومت نے حال ہی میں ایک اہم پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد ملک میں قابل تجدید توانائی (Renewable Energy) کی ٹیکنالوجیز کی مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ شمسی توانائی، ونڈ ٹربائنز اور دیگر گرین انرجی آلات کی بیرون ملک سے درآمد پر بھاری زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے، جسے مقامی پیداوار کے ذریعے نہ صرف بچایا جا سکتا ہے بلکہ ملکی صنعت کو بھی مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ اس حکومتی اقدام کے تحت مقامی صنعت کاروں کو مراعات دینے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے عمل کو تیز کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
حکومتی حکام کے مطابق، اس پالیسی کا بنیادی مقصد درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے تاکہ توانائی کے شعبے میں خود انحصاری حاصل کی جا سکے۔ درآمدی آلات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور بین الاقوامی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث مقامی سطح پر تیاری ناگزیر ہو گئی ہے۔ مقامی مینوفیکچرنگ سے نہ صرف توانائی کے آلات عام آدمی کی پہنچ میں آئیں گے بلکہ ملکی سطح پر ایک نئی صنعتی انقلاب کی بنیاد بھی پڑے گی جس سے ملک میں صنعتی ترقی کی رفتار بڑھے گی۔
اس اقدام کا ایک اہم پہلو روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ حکومت کا تخمینہ ہے کہ جب قابل تجدید توانائی کے آلات نائجیریا میں تیار ہوں گے تو نہ صرف فیکٹریوں میں ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی بلکہ تکنیکی ماہرین اور انجینئرز کی مانگ میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکومت کی جانب سے اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کو ٹیکس چھوٹ اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے تاکہ نجی شعبہ بھی اس قومی مقصد میں اپنا کردار ادا کر سکے۔
آخر میں، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی نائجیریا کو سبز توانائی کی طرف منتقل کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔ اگر حکومت اپنے اس ہدف میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو نائجیریا نہ صرف توانائی کے بحران پر قابو پا سکے گا بلکہ خطے میں ایک مینوفیکچرنگ ہب کے طور پر بھی ابھرے گا۔ حکومت کا عزم ہے کہ آنے والے برسوں میں مقامی طور پر تیار کردہ قابل تجدید توانائی کے آلات نائجیریا کی کل ضرورت کا بڑا حصہ پورا کریں گے، جس سے معاشی استحکام کو تقویت ملے گی۔