World
مشرق وسطیٰ کی صورتحال: ایران اور اسرائیل پر تازہ ترین اپ ڈیٹ
امریکہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے حکمت عملی تبدیل کر رہا ہے جبکہ اسرائیل نے غزہ کے لیے پیش کردہ 15 نکاتی امن منصوبے کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے نازک حالات میں نئی پیش رفت نے خطے کی سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان عالمی سیاست کے اہم مراکز میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ ایک جانب امریکہ ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی کو مزید سخت کرتے ہوئے معاشی دباؤ کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق واشنگٹن فی الحال تہران کے ساتھ براہ راست کسی بڑی ڈیل کے بجائے وقت کا انتظار کرنے اور ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر گامزن ہے، جسے مبینہ طور پر 'نیم مذاکرات' کے زمرے میں دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ معاشی پابندیوں کا دباؤ ایران کو میز کی دوسری جانب لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ دوسری جانب اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر جاری تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے پیش کیے گئے 15 نکاتی امن منصوبے کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے خطے میں دیرپا امن کی امیدوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس منصوبے کو مسترد کیے جانے کے بعد سفارتی حلقوں میں مایوسی پائی جاتی ہے اور جنگ بندی کے امکانات مزید دھندلا گئے ہیں۔ اسرائیلی قیادت کا موقف ہے کہ یہ منصوبہ ان کی سکیورٹی اور اہداف کے منافی ہے، جس کے باعث انہوں نے کسی بھی قسم کے معاہدے سے انکار کر دیا ہے۔ عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ کی ایران کے حوالے سے پالیسی اور اسرائیل کا غزہ کے حوالے سے سخت رویہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ ایران پر معاشی دباؤ کا اثر براہ راست خطے کے دیگر ممالک اور عسکری تنظیموں پر بھی پڑ سکتا ہے، جس کے نتائج غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ جبکہ غزہ میں جاری بحران کے باعث ہونے والی ہلاکتیں اور تباہی پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں، تاہم امن کے کسی بھی فارمولے پر اتفاق رائے نہ ہونا انسانی المیے کو مزید طول دے رہا ہے۔ موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں سفارتی اور عسکری محاذ پر مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ عالمی طاقتوں کے درمیان جاری کشمکش اور مقامی فریقین کے غیر لچکدار رویوں نے مشرق وسطیٰ کو ایک انتہائی حساس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے بہتری کے آثار کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔