LIVE
Loading Breaking News...

سائنو-افریقن ٹیک-کریٹیو کوریڈور: باکرے مبارک کا نیا عالمی اقدام

News Image
باکرے مبارک نے اقوام متحدہ کے ایک اہم فورم کے دوران سائنو-افریقن ٹیک-کریٹیو کوریڈور نامی ایک جدید اقدام کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد افریقی تخلیقی صنعت اور عالمی ٹیکنالوجی کے شعبے کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک اہم فورم سے خطاب کرتے ہوئے معروف شخصیت باکرے مبارک نے ایک انقلابی اقدام 'سائنو-افریقن ٹیک-کریٹیو کوریڈور' کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ اس اہم تقریب میں عالمی رہنماؤں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین نے شرکت کی، جہاں اس منصوبے کی اہمیت اور افریقی تخلیقی صنعت پر اس کے ممکنہ اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد افریقہ کی ابھرتی ہوئی تخلیقی صلاحیتوں کو جدید ٹیکنالوجی کے عالمی ایکو سسٹم کے ساتھ مربوط کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت افریقی تخلیق کاروں اور عالمی ٹیک کمپنیوں کے درمیان ایک ایسا پل تعمیر کیا جائے گا جس سے ڈیجیٹل مہارتوں، سرمایہ کاری اور تکنیکی وسائل کی منتقلی ممکن ہو سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سائنو-افریقن ٹیک-کریٹیو کوریڈور نہ صرف افریقی براعظم میں بے روزگاری کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ یہ تخلیقی معیشت کو نئی جہتیں بھی فراہم کرے گا۔ اس کوریڈور کے ذریعے افریقی نوجوانوں کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی، جو مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔ باکرے مبارک نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ افریقہ ٹیلنٹ اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال ہے، لیکن تکنیکی وسائل کی کمی اکثر ان صلاحیتوں کو عالمی منڈیوں تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کوریڈور کا مقصد اس خلا کو پُر کرنا ہے تاکہ افریقی تخلیق کار عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں اور اپنی مصنوعات اور خدمات کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچا سکیں۔ اقوام متحدہ کے اس فورم پر اس اعلان کو شرکاء کی جانب سے کافی پذیرائی ملی ہے اور اسے افریقی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ آخر میں، اس اقدام کے تحت آئندہ چند برسوں میں مختلف تربیتی ورکشاپس، انکیوبیشن سینٹرز اور نیٹ ورکنگ ایونٹس کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ کوریڈور نہ صرف دوطرفہ تجارتی تعلقات کو فروغ دے گا بلکہ ثقافتی تبادلے کے ذریعے تکنیکی اشتراک کی نئی راہیں بھی کھولے گا۔ عالمی برادری اس منصوبے کی کامیابی کے لیے پرامید ہے کیونکہ یہ ترقی پذیر معیشتوں کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں شامل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔