World
امریکی بحریہ کا کیریبین میں منشیات کے خلاف بڑا آپریشن
امریکی بحریہ نے جدید خودکار ڈرون بوٹس کی مدد سے کیریبین سمندر میں اسمگلروں کے خلاف کامیاب آپریشن کرتے ہوئے 81 ملین ڈالر مالیت کی منشیات ضبط کر لیں۔ اس آپریشن میں پہلی بار جدید الیکٹرک ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اسمگلروں کا سراغ لگایا گیا۔
امریکی بحریہ نے ایک جدید اور کامیاب آپریشن کے دوران کیریبین سمندر میں اسمگلنگ کی بڑی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ اس کارروائی میں بحریہ نے جدید خودکار ڈرون بوٹس (Voyager drone boats) کا استعمال کرتے ہوئے 81 ملین ڈالر مالیت کی کوکین ضبط کی ہے۔ حکام کے مطابق یہ آپریشن اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں جدید پیش رفت کس طرح سمندری حدود کی حفاظت اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
آپریشن کی تفصیلات کے مطابق، امریکی بحریہ کے استعمال کردہ ان خودکار الیکٹرک ڈرون بوٹس نے اسمگلروں کی کشتیوں کا دور سے ہی سراغ لگانا شروع کر دیا تھا۔ یہ ڈرون بوٹس انتہائی خاموشی اور تیزی سے اسمگلروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے منشیات فروشوں کو بھنک تک نہ پڑی کہ وہ امریکی بحریہ کی نگرانی میں ہیں۔ جب اسمگلر ایک مخصوص مقام پر پہنچے تو امریکی بحری افواج نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں گھیرے میں لے لیا اور بھاری مقدار میں کوکین برآمد کر لی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون بوٹس نہ صرف لاگت میں کم ہیں بلکہ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر سمندری حدود کی نگرانی کے لیے بہترین ثابت ہو رہے ہیں۔ ان بوٹس کی بیٹری پاور اور خودکار نیویگیشن سسٹم انہیں طویل فاصلے تک مسلسل نگرانی کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ اس کامیابی کے بعد اب امریکی بحریہ سمندری سکیورٹی کے لیے مزید جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دے رہی ہے تاکہ منشیات کی بین الاقوامی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو توڑا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اس کارروائی نے ایک نئی مثال قائم کی ہے کہ کس طرح مصنوعی ذہانت اور خودکار ڈرون سسٹم سمندری قزاقی اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے جرائم کے خلاف جنگ میں گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں۔ ضبط شدہ منشیات کو ضائع کرنے کے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ اس اسمگلنگ نیٹ ورک سے جڑے افراد کے خلاف مزید تفتیش جاری ہے تاکہ ان کے گٹھ جوڑ کا مکمل پتا لگایا جا سکے۔