Health
امریکی بیبی فارمولا میں اضافی چینی کا انکشاف
یونیورسٹی آف کنساس کی ایک حالیہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ امریکا میں فروخت ہونے والے بیشتر بچوں کے فارمولا دودھ میں قدرتی لییکٹوز کے بجائے اضافی چینی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال شیر خوار بچوں کی نشوونما کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔
امریکہ سے سامنے آنے والی ایک حالیہ طبی تحقیق نے والدین اور صحت عامہ کے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یونیورسٹی آف کنساس کی جانب سے جاری کردہ ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں فروخت کیے جانے والے شیر خوار بچوں کے بیشتر فارمولا دودھ (Baby Formula) میں قدرتی لییکٹوز کے بجائے اضافی چینی کا غیر معمولی استعمال کیا جا رہا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافی اجزاء بچوں کی ابتدائی نشوونما کے لیے انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، فارمولا بنانے والی کمپنیاں اپنی مصنوعات میں ذائقہ بڑھانے اور لاگت کم کرنے کے لیے مصنوعی مٹھاس اور اضافی چینی کو ترجیح دیتی ہیں۔ تحقیق کاروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ شیر خوار بچوں کو ان کی ابتدائی عمر میں جس قدرتی غذا کی ضرورت ہوتی ہے، یہ فارمولا اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔ اضافی چینی کے استعمال سے بچوں میں موٹاپے، دانتوں کے مسائل اور میٹابولک بیماریوں کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ مصنوعی مٹھاس بچوں کی ذائقہ کی ترجیحات کو تبدیل کر دیتی ہے، جس سے وہ بعد کی زندگی میں بھی صحت بخش قدرتی غذاؤں کو قبول کرنے سے کتراتے ہیں۔
اس مسئلے کے پیش نظر طبی ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فارمولا دودھ کے ڈبوں پر درج اجزاء کی فہرست کو بغور پڑھیں اور کوشش کریں کہ جن مصنوعات میں اضافی چینی کا تناسب زیادہ ہو ان سے اجتناب کریں۔ حکومتی اداروں سے بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ بچوں کی غذائی مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے سخت ضوابط لاگو کریں تاکہ ان کی صحت کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اس تحقیق نے ایک بار پھر خوراک کی صنعت میں منافع خوری کے رجحان پر بحث کو جنم دیا ہے، جہاں بچوں کی نشوونما کے بجائے مصنوعات کی فروخت کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔
عالمی ادارہ صحت اور دیگر فلاحی تنظیموں کی جانب سے مسلسل یہ بات دہرائی جاتی رہی ہے کہ شیر خوار بچوں کے لیے ماں کا دودھ سب سے بہترین غذا ہے، تاہم جہاں فارمولا دودھ کا استعمال ناگزیر ہو، وہاں اس کی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس رپورٹ کے بعد متعلقہ ادارے فوری کارروائی کریں اور بچوں کی صحت سے متعلق حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ کسی بھی پروڈکٹ کے انتخاب سے قبل اپنے ماہر امراض اطفال سے مشورہ ضرور کریں تاکہ بچوں کو غیر ضروری کیمیکلز اور مضر صحت مٹھاس سے بچایا جا سکے۔