World
جدید چین اور صدیوں کی تذلیل کا بیانیہ: ایلس ملر کے خیالات
سابق سی آئی اے تجزیہ کار ایلس ملر نے چین کی تاریخ کے روایتی بیانیے کو چیلنج کرتے ہوئے اسے نیا رخ دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جدید چین کی تشکیل صرف 1840 کی شکست کا ردعمل نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تجارتی اور فوجی توسیع کا نتیجہ ہے۔
سابق سی آئی اے کی ماہر برائے چین، ایلس ملر نے جدید چین کی تاریخ کے حوالے سے قائم روایتی بیانیے کو ایک بڑی چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ طویل عرصے سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ جدید چین کا وجود 1840 کی اوپیم جنگ اور اس کے بعد ہونے والی 'صدیوں کی تذلیل' کے ردعمل میں ایک انقلابی تحریک کے طور پر ابھرا۔ تاہم، ایلس ملر کا مؤقف ہے کہ یہ نظریہ صرف ایک افسانہ ہے جو حقیقت سے دور ہے۔ ان کے نزدیک چین کا موجودہ ریاست کے طور پر عروج محض نوآبادیاتی دور کی شکست کا انتقام نہیں بلکہ یہ صدیوں پر محیط ایک مربوط تجارتی اور فوجی پیش قدمی کا نتیجہ ہے۔
ایلس ملر کا تجزیہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ چین کو سمجھنے کے لیے ہمیں 'فیربینک دور' کے قائم کردہ نظریات سے باہر نکلنا ہوگا۔ تاریخی طور پر چینی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے سیاسی جواز کے لیے 'تذلیل کی صدی' کے بیانیے کو استعمال کیا ہے تاکہ عوامی جذبات کو ابھارا جا سکے۔ ملر کا استدلال ہے کہ جدید چینی ریاست کی جڑیں بہت گہری ہیں، جہاں حکمرانی کا تسلسل، علاقائی توسیع اور معاشی اثر و رسوخ بڑھانے کی پالیسیاں کئی سو سالوں سے جاری ہیں۔ یہ حقیقت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ چین کی موجودہ عالمی طاقت بننے کی خواہش کوئی وقتی ردعمل نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی تاریخی پیشرفت ہے۔
اس تحقیق میں ملر نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ کیسے چین کی فوجی اور تجارتی حکمت عملیوں نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی شکل بدلی ہے لیکن ان کے مقاصد میں تسلسل برقرار ہے۔ ان کے مطابق، 19ویں صدی کے واقعات کو صرف ایک 'تذلیل' کے طور پر دیکھنے سے مغرب اور دنیا بھر کے پالیسی ساز چین کی اصل طاقت اور اس کی تزویراتی گہرائی کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ ملر کا یہ نظریہ بین الاقوامی تعلقات اور چین کے مطالعاتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے، جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ بیجنگ کے اقدامات کو تاریخی تناظر میں زیادہ بہتر طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
آخر میں، یہ تجزیہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جدید چین کے بارے میں مغربی دنیا کا نقطہ نظر اب ایک بڑی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اگر ایلس ملر کے دلائل کو درست مانا جائے تو چین کے عالمی عزائم کو محض ایک انتقامی سوچ کے طور پر نہیں بلکہ اس کی صدیوں پرانی قومی شناخت اور توسیع پسندانہ روایت کے تسلسل کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ یہ تحقیق عالمی طاقتوں کے لیے چین کے ساتھ اپنے سفارتی اور اقتصادی تعلقات کی ازسرنو تعریف کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔