LIVE
Loading Breaking News...

ہیگیز برانڈ کا چین میں بحران اور پاک چین ٹیکنالوجی تعلقات پر اثرات

News Image
بین الاقوامی برانڈ ہیگیز کو چین میں سوشل میڈیا پر ایک بڑے تنازعہ کے بعد اپنی ساکھ برقرار رکھنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ دوسری جانب چین نے امریکہ کی جانب سے روبوٹک ٹیکنالوجی پر پابندیوں کے جواب میں جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر معروف بے بی پروڈکٹس کے برانڈ 'ہیگیز' کو چین میں شدید کاروباری بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک حالیہ مہم اور تنازعہ کے بعد اس برانڈ کی فروخت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ چینی صارفین کی جانب سے اس برانڈ کے خلاف کی جانے والی تنقید نے کمپنی کے لیے مقامی مارکیٹ میں اپنے قدم جمانے کو ایک بڑی چیلنج بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین جیسے حساس بازار میں بین الاقوامی برانڈز کو ثقافتی اور سماجی رجحانات کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے، بصورت دیگر انہیں بائیکاٹ یا عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کاروباری ہلچل کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر امریکہ اور چین کے درمیان جاری کشیدگی میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں چین نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن اپنی روبوٹک ٹیکنالوجی پر پابندیوں کے فیصلے پر قائم رہتا ہے تو بیجنگ بھی جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے۔ یہ تنازعہ صرف روبوٹکس تک محدود نہیں بلکہ اس میں ریئر ارتھ منرلز، بنیادی ڈھانچے کے منصوبے اور عسکری ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبے بھی شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں یہ سرد جنگ دنیا بھر کی سپلائی چین کو متاثر کر رہی ہے، جس کے اثرات جاپان اور دیگر ایشیائی ممالک کی تجارت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات کی موجودہ صورتحال نے عالمی سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ چین نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی اور صنعتی خود مختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ دوسری جانب امریکہ کا موقف ہے کہ اس کے اقدامات قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ اس کشمکش میں عالمی کمپنیاں پھنس چکی ہیں جنہیں ایک طرف امریکی پابندیوں کا سامنا ہے تو دوسری طرف چینی مارکیٹ کے بائیکاٹ کا خوف۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچ پاتے ہیں یا یہ تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کر جائے گی جس کا خمیازہ عالمی معیشت کو بھگتنا پڑے گا۔