Business
پاکستان میں ریفائنری اپ گریڈیشن: پیٹرولیم ڈویژن کی نگرانی میں نئے معاہدے
پاکستان کی حکومت نے ملکی ریفائنریز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پیٹرولیم ڈویژن کو کلیدی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی بجائے اب پیٹرولیم ڈویژن ان معاہدوں کی نگرانی اور دستخط کے معاملات سنبھالے گا۔
پاکستان میں توانائی کے شعبے میں بڑی تبدیلیوں کا عمل شروع ہو چکا ہے جس کے تحت ملکی ریفائنریز کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے لیے اہم پیش رفت کی گئی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ریفائنری اپ گریڈیشن کے معاہدوں کی نگرانی اور دستخط کرنے کی ذمہ داری اب اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) کے بجائے پیٹرولیم ڈویژن کے سپرد کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ریفائنریز کی صلاحیت کو بہتر بنانا اور ملکی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لانا ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ ستمبر سے ان معاہدوں کے نتیجے میں پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عمل شروع ہو جائے گا، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
اس حکمت عملی کے تحت پیٹرولیم ڈویژن نہ صرف ان معاہدوں پر دستخط کرے گا بلکہ ان کی بروقت تکمیل اور عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے بھی مسلسل نگرانی کرے گا۔ یہ فیصلہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے کہ ریفائنری اپ گریڈیشن کے منصوبے قومی سلامتی اور توانائی خود کفالت کے حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی سے فیصلہ سازی کا عمل تیز ہوگا اور نجی شعبے کے سرمایہ کاروں کو بھی حکومتی سطح پر ایک واضح اور مربوط پالیسی فریم ورک ملے گا، جس سے شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
علاوہ ازیں، توانائی کے شعبے میں وسعت لانے کے لیے پاکستان آف شور ڈرلنگ کے منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے۔ حال ہی میں وزیر پیٹرولیم نے تصدیق کی ہے کہ ترکی کی کمپنی جلد ہی پاکستانی سمندری حدود میں آف شور ڈرلنگ کا آغاز کرے گی۔ اس منصوبے سے پاکستان کے انرجی مکس میں بہتری متوقع ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ملکی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے توانائی کے شعبے میں سخت اور ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ درآمدی بل کو کم کر کے ملکی وسائل سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ یہ تمام اقدامات طویل مدتی اقتصادی استحکام اور صنعتی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔