World
ایران کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تردید اور واشنگٹن سے رابطے نہ کرنے کا اعلان
ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کے مذاکرات جاری نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس وقت امریکہ کے ساتھ بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے مابین پس پردہ یا براہ راست کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں۔ انہوں نے میڈیا کے نمائندگان کو واضح کیا کہ موجودہ حالات میں ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ کسی بھی سطح پر بات چیت کا کوئی عمل زیر غور نہیں ہے۔ بین الاقوامی تعلقات اور خطے کی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں اس بیان کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے سرنگوں نہیں ہوگا۔ انہوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی امریکی عسکری موجودگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ تہران کی خارجہ پالیسی اپنے اصولوں پر سختی سے کاربند رہے گی۔ ایرانی حکام کی جانب سے بارہا یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ جب تک واشنگٹن اپنے طرز عمل میں تبدیلی نہیں لاتا، مذاکرات کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ میں حالیہ مہینوں میں مزید اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے امور اور تہران کے متنازع جوہری پروگرام کے حوالے سے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی ذرائع پہلے ہی سے انتہائی محدود ہیں، اور اس تازہ ترین بیان نے ظاہر کر دیا ہے کہ دونوں فریقین کے مابین فاصلے تاحال برقرار ہیں۔ ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ خطے کے مسائل کا حل علاقائی ممالک کے باہمی تعاون میں پنہاں ہے نہ کہ بیرونی مداخلت میں۔
ایران کا یہ تازہ ترین بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ خطے میں کسی بھی بڑی جنگ یا تنازعے کو روکا جا سکے، تاہم تہران کا واضح موقف اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ فی الحال امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے ڈپلومیٹک بریک تھرو کی کوئی توقع نہیں ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ آئندہ بھی اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے پر اپنی توجہ مرکوز رکھے گی۔